غزہ کے 100زخمی بچوں کا علاج اٹلی میں ہوگا: وزیر دفاع اٹلی
اٹلی غزہ کے ایک سو فلسطینی زخمی بچوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرے گا۔ ان فلسطینی بچوں کو پہلے طیارے کے ذریعے اٹلی منتقل کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ تباہ حال غزہ میں چونکہ اسرائیل نے ہسپتال بھی بمباری سے مسمار کر دیے ہیں۔ اس لیے 62ہزار زخمی فلسطینیوں میں سے ایک سو بچوں کو اٹلی میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ بات اٹلی کے وزیر دفاع نے بدھ کے روز کہی ہے، ان کے بقول زخمی فلسطینی بچوں کو اٹلی منتقل کیا جانا شروع کر دیا جائے گا۔
وزیر دفاع کے مطابق اگلے چند دنوں میں پہلے مرحلے پر زخمی بچوں میں سے 30 کو علاج کے لیے منتخب کر کے مصر کے راستے اٹلی منتقل کیا جائے گا ۔ مزید 30 بچوں کو ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ جنوری کے آخری دنوں میں اٹلی لے جائیں گے۔ یہ کھیپ بحری جہاز کے ذریعے جائے گی، تاہم اٹلی کے وزیر دفاع کریسٹو نے مزید چالیس زخمی فلسطینی بچوں کی اٹلی منتقلی کے بارے میں ابھی نہیں بتایا ہے کہ ان کی باری کب آئے گی۔
واضح رہے اب تک اسرائیلی بمباری سے25700 فلسطینی ہلاک اور 62000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ بے گھر ہوچکے فلسطینیوں کی تعداد بیس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔
وزیر دفاع کریسٹو نے اس صورت حال کو انسانی المیے سے تعبیر کیا اور کہا کوئی بھی اس سے الگ تھلگ اور بے تعلق نہیں رہ سکتا۔ اس لیےاٹلی کی ایک سو بچوں کو علاج کی سہولت دینے سیاسی سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری کے سبب ہے۔ ان بچوں کو اٹلی کے چار مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں رکھا جائے گا۔
اس سے پہلے فرانس کے ہسپتالوں میں ایک ہزار زخمی فلسطینیوں کا علاج کیا گیاہے۔ اٹلی بھی اسرائیلی بمباری اور غزہ میں جنگ کا مخالف نہیں رہا ہے۔ بلکہ اسے اسرائیل کا حق دفاع تسلیم کرنے والے یورپی ملکوں میں شامل رہا ہے۔