فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ میں حماس کی سرنگوں کا 40 فی نیٹ ورک متاثر ہو چکا: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اگرچہ غزہ کی پٹی میں جنگ کو تقریباً 4 ماہ گذرچکے ہیں، لیکن اسرائیل کا سب سے بڑا ہدف اب بھی حماس کے رہ نماؤں اور محصور غزہ کی پٹی کے نیچے تک پھیلی حماس کی سرنگوں کو ختم کرنا ہے۔

تاہم اسرائیلی افواج بہ ظاہر اپنے تمام عزائم حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نےکہا ہے کہ 80 فیصد تک سرنگیں اب بھی کسی حد تک برقرار ہیں۔

اتوار کوشائع ہونے والی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ 20 فیصد سے 40 فی صد کے درمیان سرنگیں خراب یا ناکارہ ہوچکی جن میں سے زیادہ ترشمالی غزہ میں ہیں۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ان سرنگوں کی تباہی کی سطح کا درست اندازہ لگانے میں دشواری ہے کیونکہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ کتنے میل کی سرنگیں مزید موجود ہیں۔

حماس کی قیادت

اسرائیلی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کی ان سرنگوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنا حماس کے سینیر رہ نماؤں کو گرفتار کرنے اور وہاں قید اسرائیلی قیدیوں کو بچانےپر منحصرہے۔

300 میل سے زیادہ تک پھیلی ہوئی سرنگوں کی تباہی حماس کو اسلحے اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جنگجوؤں کے چھپنے کے امکانات سے بھی محروم کردے گی۔

اس تناظر میں ایک باخبر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اس ماہ (جنوری 2024) کے شروع میں غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس میں کم ازکم ایک واٹر پمپ نصب کیا تھا تاکہ وہاں سرنگوں کے نیٹ ورک میں پانی بھرا جا سکےلیکن غیر متوقع دیواروں اور رکاوٹوں کی وجہ سے اس عمل میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی اور پانی کا بہاؤ سست روی کا شکار رہا۔

غزہ کی سرنگوں میں سے ایک سرنگ
غزہ کی سرنگوں میں سے ایک سرنگ

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جو پمپ پہلےغزہ کے اندر لگائے گئے تھے وہ سمندری پانی کا استعمال کرتے تھے جبکہ حال ہی میں نصب کیے گئے پمپ تک اسرائیل سے پانی لایا گیا تھا۔

متعدد مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود، امریکی حکام نے وضاحت کی کہ سمندر کے پانی نے کچھ سرنگوں کو ختم کر دیا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ کوشش اتنی موثر نہیں تھی جس کی اسرائیلیوں کو امید تھی۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "اسرائیل کے پاس سرنگوں کو صاف کرنے میں مہارت حاصل کرنے والے یونٹ ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے انجینئرز ہیں جو سرنگوں کو تباہ کرسکتے ہیں مگر یرغمالیوں اور حماس کے سینیر رہنماؤں کی تلاش کے لیے لڑاکا فوجیوں کی ضرورت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے اس نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے کئی میکانزم اختیار کیے۔ اسرائیل نے سرنگوں کو دھماکہ خیز مواد سے بھرنے، تربیت یافتہ کتوں کو ان کی گہرائی میں بھیجنے، پانی پمپ کرنے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے یا مائع مواد سےسرنگوں کو تباہ کرنے کے حربے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں