سعودی عرب کے جنوبی علاقے ظہران کے پرانے قصبے کو ایک اہم تاریخی اور سیاحتی مقام کے طورپر دیکھا جاتا ہے جومملکت کے اندر اور باہرسے آنے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم سیاحتی منزل بن چکا ہے۔
ظہران قصبہ اپنے تاریخی بازار، قدیم محلات، تاریخی قلعوں اور ایک پرانی تاریخی مسجد کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔
اس کےعلاوہ ظہران قصبہ مملکت کے شمال اور جنوب کے درمیان قافلوں کی راہ داری رہا ہے۔ اس کا مشہور بازار ’خمیس مارکیٹ‘ ایک ہفتہ وار بازار تھا جو ٹیکسٹائل کی صنعت کے علاوہ خنجر، تلوار، چمڑے، مٹی کے برتن اور پتھر کے برتنوں کی دکانوں کے لیے مشہور تھا۔
سعودی عرب میں تاریخی نوادرات اور آثار قدیمہ کے ماہرعوض فرحان الوداعی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا قصبہ تین اہم متوازی علاقوں میں تقسیم ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ گذشتہ برسوں کے دوران شہر کا درجہ اختیار کرگیا۔ اس کا ایک حصہ زرعی زمینوں پر مشتمل ہے۔ یہ وادی کے کنارے قصبے کے جنوب میں واقع ہے۔اس کے فوراً بعد متوازی اور ایک نیم فلیٹ سطح مرتفع ہے۔ تیسرار ہائشی علاقہ جو زرعی علاقے اور تجارتی علاقے کے درمیان میں واقع ہے۔اس میں تاریخی بازار کا علاقہ شامل ہے جوقبصبے کی شمال کی سمت میں واقع ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قصبے کو تقسیم کرنے اورماضی بعید میں اس کی منصوبہ بندی کرنے کا مقصد اس کے حصوں کے درمیان نقل و حرکت میں آسانی اور تیز رفتار رابطہ کاری، سماجی، سلامتی اور خدمات کے فوائد کے علاوہ دیگر مقاصد کار فرما تھے۔ ماضی میں یہ منصوبہ بندی ایک مخصوص فن تعمیرسے مطابقت رکھتی تھی، جس نے دفاعی قلعوں کی شکل اختیار کی تھی۔
طبعی خدو خال اور قدرتی وسائل
عوض الوداعی نے کہا کہ "ماضی میں اس سرزمین کا انسان بذرگوں کی بصیرت اور نوجوانوں کے عزم کے ساتھ اس کے راستوں پر چلتے ہوئے اپنے اردگرد کی فطرت کو مسخرکرنے،اس کے علاقوں کی تسخیر، اور انہیں استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں برسوں سے ان وسائل سے استفادہ کیا جاتا۔
وادی العرین کے ساتھ ساتھ پھیلی زرعی اراضی کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا تھا تاکہ وادی کے بہتے پانیوں سے اس علاقے کی فصلوں کو سیراب کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ قدیم زمانے میں قصبے کے لوگوں نے سیلابی پانی کوطویل ترین ممکنہ مدت تک برقرار رکھنے کے لیے منتخب جگہوں پر مضبوط راک ڈیم بنائے تھے اور انہیں وادی کے ساتھ ساتھ تعمیر کیا گیا تھا تاکہ کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے کھیتوں میں پھیلے کنوؤں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قصبے کے شمالی جانب ہفتہ وار بازار کا چوک ہے جو کہ پڑوسی علاقوں کی سطح پرشہری قصبے کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روزاس میں دکانداروں اور تاجروں کی آمد دیکھنے میں آتی۔ سامان کی اقسام کا پتا چلتا، اگلے دن بازار سجانے کی تیاری کی جاتی۔ سب سے اہم اشیا میں اناج، کشمش اورکافی، کھجور، لکڑی، بھیڑ بکریاں، گھی، شہد، سبزیاں، پھل اور دستکاری کی اشیا شامل لائی جاتی ہیں‘‘۔
شہری طرز تعمیر
الوداعی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "قصبے کی خصوصیات میں سے ایک اس کے محلات، مکانات اور قلعوں کا شہری انداز ہے۔ اس کے مکانات کے شمالی جانب سے بازار کے مربع اور جنوبی اور مغربی اطراف سے کھیتوں کا نظارہ ہے۔ یہ زرعی اورتجارتی علاقے کے درمیان میں ہے۔ اس میں بازار کے چوک کی طرف سے داخلی راستے ہیں جو اب بھی موجود ہیں۔ ماضی میں یہ دروازے تھے۔ یہ رات کو بند رہتے اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صبح کو کھولا جاتا۔ اس قصبے میں ایک قدیم مسجد بھی شامل ہے جو اب بھی مغربی حصے میں موجود ہے"۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ پرانے شہر کی ترتیب اوراس کا روایتی فن تعمیر ہے۔ یہ مٹی کی عمارتوں پر مشتمل ہے جو چھوٹی راہ داریوں سے جڑے ہوئے بلاکس کی شکل میں ہیں۔
-
سعودی عرب: مصنوعی ذہانت کے میدان میں 18.75 ملین ریال کی سرمایہ کاری کا اعلان
معروف 'آئی سی ٹی کمپنی' نے سعودی المعمار انفارمیشن سسٹمز میں 18 اعشاریہ 75 ملین ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں شماریاتی مقاصد کے لیے جرائم کی یکساں درجہ بندی کیا ہے؟
نیا اصول فوجداری نظام انصاف کے اداروں کے لیے ڈیٹا کے معیار کی سطح کو بڑھانے میں ...
مشرق وسطی -
عوامی اعتماد کے لحاظ سے سعودی عرب کی حکومت دنیا میں نمبر ون
کسی بھی حکومت پر اس ملک کے عوام کا اعتماد ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہمیشہ ...
مشرق وسطی