ایران کی پاسداران انقلاب کور کے سربراہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری گرما گرمی کے ماحول میں انتباہ کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے خطرات کو جواب کے بغیر نہیں جانے دیا جائے گا۔ بدھ کے روز اس بارے میں بات کرتے ہوئے پاسداران چیف نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے بھی خوفزدہ نہیں ہے۔
پاسداران چیف حسین سالامی کا کہنا تھا ان دنوں ہمیں بعض امریکی حکام کی طرف سے کچھ دھمکیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ ہم انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں ہم کسی خطرے کو نظر انداز نہیں کریں گے بلکہ ہر خطرے کا جواب دیں گے، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ سے خوفزدہ بھی نہیں ہیں۔
پاسداران چیف حسین سالامی کے ان خیالات کو ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے۔
جنرل سالامی کے یہ ریمارکس امریکی صدر جوبائیڈن کے ان خیالات کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایک روز قبل کہا تھا 'ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اردن میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دیں گے۔'
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ وہ ایران کو ان تین فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ ایران ان حملوں کے لیے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ جنگجو گروپوں کے حملوں کے پیچھے ایران ہے۔ تاہم ایران نے ایسے کسی بھی ڈرون حملے کا حصہ ہونے کی تردید کی ہے جس کے نتیجے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کا بڑا سبب غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ ہے جو سات اکتوبر سے مسلسل چل رہی ہے۔ امریکہ پوری طرح اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے جبکہ ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ اسرائیل اور امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے عراق اور شام میں اب تک 165 ایسے حملے کیے ہیں جن کا نشانہ امریکی فوجی اڈے تھے۔
-
کیا ایران کے پراکسی مشرق وسطیٰ میں تہران کے لیے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں؟َ
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کےمطابق سات اکتوبر کو حماس کے مہلک حملے کے جواب میں ...
مشرق وسطی -
اپنی سرزمین، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا "فیصلہ کن اور سخت" جواب دیں:ایران
امریکا کی طرف سے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کا جواب دینےکی دھمکیوں کے بعد ...
مشرق وسطی -
ایران اپنی آخری علاقائی پراکسی تک لڑنے کے لیے تیار ہے: سی آئی اے چیف
چین کے ساتھ مقابلہ واشنگٹن کی اولین ترجیح رہے گا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ...
بين الاقوامى