اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے حماس کی طرف سے تجویز کردہ 5 ضامن ممالک کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی فائل اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے اعلان پر مذاکرات کرنے والے ثالثوں کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم فلسطینی تحریک حماس کے ردعمل کے بارے میں کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

حماس کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنی شرائط، تجاویز اور مطالبات پیش کیے ہیں۔ حماس نے 135 دن کی جنگ بندی کو تین مراحل میں مکمل کرنے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلاء اور تعمیر نو کے مطالبات کیے ہیں۔

پانچ ضامن ممالک

حماس کے مسودے سے پتہ چلا ہے کہ حماس نے پانچ ممالک سے کہا کہ وہ جنگ بندی کے ضامن کے طور پر کام کریں۔ کیونکہ حماس کو اسرائیل پر جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے اعتماد نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حماس نے درخواست کی ہے کہ روس اور ترکیہ، قطر اور مصر کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے علاوہ معاہدے کے ضامن ہوں۔

حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا منصوبہ بھی تجویز کیا، جس میں تمام قیدیوں کی رہائی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلا، اور 135 دنوں کی مدت میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنا شامل ہے۔

گذشتہ روز قطری وزیراعظم الشیخ عبدالرحمان آل ثانی نے کہا تھا کہ انہیں حماس کا جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز موصول ہوئی ہیں جو حوصلہ افزا ہیں۔

تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی

حماس کی طرف سے سامنے آنے والی جنگ بندی کی تجاویز کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر مرحلہ 45 دنوں پر محیط ہے۔

حماس کی طرف سے جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز ، شرائط اور مطالبات پرمشتمل مسودہ قطر اور مصر کو موصول ہوا ہے۔ قطر نے اس مسودے کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی بات کی ہے۔ اس مسودے میں حماس تین مراحل میں غزہ میں جنگ بندی پر راضی ہوگئی ہے۔

تعمیر نو اور بحالی

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں غزہ میں ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کی تعمیر نو اور رہائشی علاقوں سے اسرائیلی زمینی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس میں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے اور مکمل سکون بحال کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کرے گی۔

پہلے مرحلے میں قیدیوں، خواتین اور بچوں کی رہائی کے تبادلے کے لیے 45 دن کی جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں بوڑھے اور بیمار اسرائیلی قیدی بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ غزہ کی پٹی میں کھلے عام امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں فوجی کارروائیوں کو روکنے اور اسرائیلی فوجیوں کی غزہ کے رہائشی علاقوں سے انخلاء پر زوردیا گیا ہے تاکہ فریقین کو قیدیوں کا تبادلہ مکمل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

مکمل انخلاء

حماس نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی 45 دن تجویز کیے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں فلسطینیوں کی ایک خاص تعداد کے بدلے اسرائیلی فوجی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل اںخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تیسرے اور آخری مرحلے کے 45 دنوں میں دونوں طرف سے مردہ قیدیوں کی لاشوں کا تبادلہ شامل ہے۔

اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ غزہ میں لڑائی کےدوران 50 قیدی ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جنگ بندی تجاویز پر اسرائیلی قیادت سے صلاح مشورہ کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اس سے قبل واضح طور پرکہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ میں حماس کے خاتمے سے قبل جنگ بندی نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں