’اڑتا چاقو‘ امریکی ہتھیار جسے الظواہری، سلیمانی اور باقر الساعدی کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراقی حکومت نے ملک کے اندر موجود مقامات پر جاری امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ حملے بغداد کو بین الاقوامی اتحاد کے مشن کو ختم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کیونکہ یہ اتحاد عدم استحکام کا ایک عنصر بن چکا ہے۔

عراقی حکومت نے امریکی حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے شہری امن کو خطرہ ہے اوریہ عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بعد ازاں عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا کہ اتحاد سے عراق سے واپسی پر اصرار عراقی افواج کے دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

پانچ دنوں کے اندر دو حملوں میں عراقی ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ ملیشیائیں اس کے مفادات پر حملوں میں ملوث ہیں جن میں تین فوجی مارے گئے تھے۔

الحشد کمانڈر ابو باقر الساعدی کا قتل

بغداد کے مشرق میں المشتل، البلدیات اور جمیلہ کے علاقوں میں چار دھماکوں میں ایک فور وہیل ڈرائیو گاڑی اور الحشد ملیشیا کے ایک گودام کو نشانہ بنایا، جس میں حزب اللہ ملیشیا کے سرکردہ رہ نما ابو باقر الساعدی اور اس کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ یہ فضائی حملہ "امریکی فوجیوں پر حملوں کے جواب میں" کیا گیا اور "حزب اللہ بریگیڈ کے ایک رہ نما کی ہلاکت کا باعث بنا جو خطے میں موجود امریکی فوجیوں پر براہ راست منصوبہ بندی اور اس میں شرکت کا ذمہ دار تھا۔

منظر نامے کی تکرار

حتمی حملے کے منظر نامے نے القدس فورس کے کمانڈرقاسم سلیمانی کے ساتھ ساتھ کابل میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کے قتل کی طرز پر الساعدی کو ایک ایسے ڈرون سے حملہ کیا جو اپنے ہدف کو تیز دھار چاقوؤں سے نشانہ بنا کر اسے کچل کررکھ دیتا ہے۔

ریپر ڈرون سے ہل فائر میزائل کا استعمال

حالیہ حملے ایک ڈرون کے ذریعے کیے گئے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک MQ REAPER ہے ڈرون ہے جس میں ہل فائر میزائلوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرون کارروائیوں میں 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےکام کرتے ہیں۔

یہ ڈرون دو سے چلایا جاتا ہے۔ اس کی رفتار تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے اور یہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ بغیر ایندھن بھرے پرواز کر سکتا ہے۔

گیارہ میٹر لمبا یہ ڈرون آٹھ لیزر گائیڈڈ میزائل اور سولہ ہل فائر میزائل لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہل فائر میزائلوں کا انتخاب ہدف کو نشانہ بنانے میں ان کی درستگی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ نقصان کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

اڑتا ہوا چاقو

ہیل فائر ایک فضا سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے جسے فلائنگ نائف اور ننجا میزائل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا ایک ورژن R9X ایک غیر فعال غیر دھماکہ خیز وار ہیڈ رکھتا ہے، جس کا وزن پینتالیس کلو گرام ہے۔

اس کم فریگمنٹیشن ورژن میں چھ چاقو یا گھومنے والے بلیڈ ہوتے ہیں جو ہدف کے قریب پہنچنے پر کھلتے ہیں تاکہ اسے ٹکرا سکیں۔ یہ ہدف کو مارنے کے لیے سو پاؤنڈ سے زیادہ دھات، کاروں اور عمارتوں میں گھسنے کی صلاحیت رکھتا ہے

پینٹاگان کا اہم ہتھیار

یہ ہتھیار اصل میں 1980ء کی دہائی میں ٹینک شکن میزائل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن پینٹاگان اسے شام، یمن، افغانستان، عراق اور دیگر ملکوں میں کیے گئے خصوصی آپریشنز میں استعمال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں