البغدادی نے مجھے 12 سال کی عمر میں اپنے ساتھی سے شادی پر مجبور کیا: بیٹی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

داعش کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اسماء محمد کی جانب سے العربیہ/الحدث کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں اس شخص کے بارے میں اہم معلومات سامنے آنے کے بعد جس نے برسوں تک دنیا کو خوفزدہ کیا اور شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر اپنی مبینہ "خلافت" مسلط کی ، کل، جمعرات، ان کی بیٹی نے بھی مزید انکشافات کئے۔

داعش کے مقتول رہنما کی بیٹی امیمہ نے عراق میں اپنی حراست کے دوران بتایا کہ کس طرح ان کے والد نے انہیں 12 سال کی عمر میں اپنے ذاتی ساتھی سے شادی کرنے پر مجبور کیا تھا۔


قیدیوں کے درمیان رہنا

انہوں نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جو آج جمعہ کو نشر کیا گیا، ان دنوں کی تفصیلات بھی بتائی جو انہوں نے "مبینہ خلیفہ" کے اڈوں میں قیدیوں کے درمیان گزارے تھے۔

اس سے قبل ان کی اہلیہ نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ البغدادی نے 10 سے زائد یزیدی خواتین کو یرغمال بنایا اور ان کے درمیان رہتا تھا۔ اس سے ان کے اور ان کے حامیوں کے خواتین کے بارے میں جنون کا بھی انکشاف ہوا، یہاں تک کہ انہوں نے مبینہ خلافت کو عورتوں اور غلاموں کی سلطنت میں بدل دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابراہیم العواد، جو بعد میں داعش کے مشہور رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا، نے چار خواتین سے شادی کی تھی اور ان کے 11 بچے تھے۔

اس کے علاوہ، اسماء، جو 1999 میں العواد سے وابستہ تھیں، نے اشارہ کیا کہ "ابو محمد العدنانی اور ابو حسن المہاجر مسلسل البغدادی کے ساتھ رہتے تھے۔" بغدادی اپنی موت سے پہلے کے عرصے میں، امریکی تعاقب اور نگرانی کے بارے میں بہت فکر مند ہو گیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تنظیم کا سربراہ البغدادی ، جس نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا اور اپنی مبینہ "خلافت" کا اعلان کر کے انتہا پسند قوانین نافذ کیے تھے، اکتوبر 2019 میں شام کے شمال مغربی علاقے ادلب گورنری میں خصوصی آپریشن میں مارا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج کے ایک کمانڈو اسکواڈ نے انہیں دیکھا اور ان کا تعاقب کیا لیکن انہوں نے اپنی دو بیویوں اور بیٹے کے ساتھ خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

تنظیم کو 2017 میں شکست ہوئی تھی، جب بغداد حکام نے اس پر فتح کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے کچھ سیل اب بھی کچھ الگ الگ علاقوں میں سرگرم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں