اسرائیل کے وزیر خارجہ نے برازیلی صدر لولا ڈی سلوا کی جانب سے غزہ پر اسرائیلی جنگ کو دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے مظالم سے تشبیہ دینے پر احتجاج کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کاٹز نے برازیل کے سفیر کو پیغام دیا کہ "ہم نہ بھولیں گے نہ معاف کریں گے۔ یہ بہت سنجیدہ سام دشمن حملہ ہے۔ میں اپنے اور اسرائیل کے شہریوں کی جانب سے کہہ رہا ہوں کہ صدر لولا کو بتا دیں کہ جب تک وہ اپنا بیان واپس نہیں لیں گے تب تک وہ اسرائیل کے لیے ناپسندیدہ شخصیت [persona non grata] رہیں گے۔"
اسرائیل نے لولا ڈی سلوا کے بیان کو ہالوکاسٹ اور یہودیوں کی تذلیل قرار دیتے ہوئے برازیل کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔
یاد رہے کہ برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے اتوار کے روز غزہ میں اسرائیلی فوج ہاتھوں فلسطینیوں کے اس اندھا دھند قتل عام کو نسل کشی کا نام دیا ہے۔ اس نسل کشی کے مرتکب اسرائیل کو ہٹلر کا کردار ادا کرنے والا قرار دیا ہے، جس نے یہودیوں کی نسل کشی کی تھی۔
-
اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر کے ہٹلر کا کردار ادا کر رہا ہے: برازیل
غزہ میں جہاں اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد 29 ہزار ...
مشرق وسطی -
برازیل کے 32 شہری غزہ سے وطن واپس پہنچ گئے، صدر لولا نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا
وطن پہنچنے والوں میں 17 بچے اور9 خواتین بھی شامل
بين الاقوامى -
غزہ پر اسرائیلی بمباری بلا جواز ہے: برازیل کے صدر لوئیز اناشیو لولا دا سلوا
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے حملہ کے باوجود اسرائیل کے ...
ایڈیٹر کی پسند