فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج نے غزہ میں آٹے کے لیےجمع فاقہ کش لوگوں پرایک بار پھر گولیاں برسادیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی طرف سے گذشتہ ہفتےغزہ میں نابلسی گول چکرمیں امداد اور آٹے کے لیے جمع ہزاروں فلسطینیوں پر گولیاں چلانے اور سیکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے بعد ایک بار پھر امداد کے لیے جمع لوگوں پر گولیاں چلائی ہیں۔

غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی شام غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع غزہ شہر کے کویت گول چکر پر انسانی امداد کے انتظار میں کھڑے بے گھر افراد پر فائرنگ کی۔

درجنوں شہری صلاح الدین اسٹریٹ پر واقع کویت گول چکر پر آٹا اور خوراک کی امداد لینے کے لیے انتظار کر رہے تھے لیکن گولیوں کی آواز سے وہ حیران رہ گئے۔

قحط کا منظر

حماس تحریک کے میڈیا آفس نے بھوک، غذائی قلت اور پانی کی کمی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی بڑی تعداد کے تناظر میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور بگڑتی ہوئی انسانی تباہی کا مکمل طور پر ذمہ دار امریکی انتظامیہ اور عالمی برادری کو ٹھہرایا ہے۔

حماس نے "نسل کشی کی جنگ کے خاتمے اور تمام گورنریوں خاص طور پر شمالی غزہ کی پٹی کے لیے امداد کے 1,000 ٹرکوں کو جانے کی اجازت دینے" کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع نابلسی گول چکر پر پیش آنے کے بعد سامنے آیا جس میں تقریباً 118 افراد ہلاک اور تقریباً 750 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

جب کہ اسرائیل نے دعویٰ کہا کہ یہ اموات فلسطینیوں کی بھگدڑاور ٹرکوں کے ان پر چڑھ جانے سے ہوئیں جو خوراک کے لیے ٹرکوں کی طرف لپک رہے تھے۔

رفح کیمپ میں بے گھر بچے
رفح کیمپ میں بے گھر بچے

تاہم اس سانحے کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور عالمی سطح پر مزید امدادی ٹرکوں کو محصور غزہ تک لانے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ پوری پٹی میں شہریوں تک انسانی امداد کی فوری رسائی کو آسان بنائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں