یوم خواتین : غزہ کی لاکھوں بےگھراور قتل ہونے والی خواتین زیر بحث رہیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیمونا سٹین بریکر نے اپنی بیٹی ڈرون کی چمکتی آنکھوں اور مسکراہٹ سے بھرپور تصویر اٹھا رکھی ہے۔ حماس کی جانب سے جنگ کے 107 دن مکمل ہونے پر جاری کی گئی ویڈیو میں ڈرون کی انکھیں بےجان ہوئی دکھائی دیتی ہیں کہ قید کے دوران وہ کمزور ہوچکی ہے۔7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی حراست میں دو ہفتوں سے لے کر دو ماہ تک رہنے والی فلسطینی خواتین میں سے اگرچہ اب بعض رہائی پا چکی ہیں لیکن ان کے ساتھ اسرائیلی حراست میں جو بدسلوکی روا رکھی گئی ہے اس کا ابھی بہت کم منظر عام پر آسکا ہے۔

ڈرون نے 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں اس وقت آخری بار اپنی والدہ کو فون کیا تھا جب وہ کبوتز کفار عزا میں واقع اپنے گھر میں موجود تھی۔ 30 سالہ ڈرون پیشے کے لحاظ سے ویٹرنری نرس ہے۔ اپنی والدہ سیمونا سے بات کرتے ہوئے ڈرون نے بتایا تھا کہ بندوق بردار اس کے کمرے کی طرف جا رہے ہیں۔'

سیمونا اپنی بیٹی ڈرون کی آخری فون کال کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے 'یہ ایک ماں کے لیے بدترین خواب ہے۔ میں اپنی بیٹی کے گھر کے قریب ہونے کے باوجود اس کی مدد کے لیے نہیں جا سکتی تھی۔ میں جان چکی تھی کہ اسے اغوا کیا جا رہا ہے۔ علاقہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں اپنی بیٹی کی مدد نہیں کر سکی۔'

سیمونا کا یہ خواب اس وقت مزید ڈراؤنا ہوگیا جب ماہ نومبر میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی یرغمالی رہا ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا ذکر کیا۔

اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں یرغمالی خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ عالمی یوم خواتین کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ یاد رہے 31 ہزار ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں بچوں کے علاوہ فلسطینی عورتیں شامل ہیں۔ جبکہ اس وقت بےگھر 23 لاکھ فلسطینیوں میں سے بھی 12 لاکھ خواتین ہیں۔ اس 8 مارچ کے یوم خواتین پر ان کو شاید کم ہی لوگ یاد کریں گے۔ تاہم یورپ کے بعض ملکوں اور پاکستان میں توقع کی جا رہی ہے کہ فلسطینی خواتین کو یاد رکھا جائے گا۔

حماس کی قید میں موجود ایک اور یرغمالی رومی کی والدہ نے کہا 'میری بیٹی غزہ کے اندر ہے۔ جس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ زمین پر ایک جہنم ہے۔'

رومی کی والدہ میرولیشم گونن نے کہا 'خواتین غیر محفوظ ہیں۔ اس بارے میں خواتین کا عالمی دن کیا کہتا ہے۔ میری بیٹی کو نووا اوپن ایئر میوزک فیسٹیول سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس نے مجھے فون پر بتایا تھا کہ وہ زخمی ہوگئی ہے۔'

پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران سیمونا اور میرولیشم اپنی بیٹیوں کو گھر واپس لانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ دونوں مائیں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے احتجاج میں تقاریر کرتی ہیں اور اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں