فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ میں 13000 ہزار دہشت گرد ہلاک کیے ، نیتن یاہو کا دعویٰ حماس نے مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ حماس کے خلاف جنگ کے دوران مارے گئے فلسطینیوں میں کم از کم 13,000 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ یاہو نے اس دعوے کا اظہار 'پولیٹکیو' کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کیا ہے جو اتوار کے روز نشر کیا گیا۔

اپنے انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں رفح کی طرف اپنے جنگی منصوبے کے ساتھ پورے جارحانہ انداز میں آگے بڑھیں گے۔

یاد رہے امریکی صدر جوبائیڈن ان دنوں نے رفح پر اسرائیل کے امکانی حملے کو اپنی سرخ لکیر قرار دے رہے ہیں ، تاہم امریکہ نے اسرائیل کے لیے اپنی فوجی امداد میں کمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ کبھی اسرائیلی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

غزہ میں اب تک جاری اسرائیلی جنگ میں اسرائیلی فوج نے 31 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت غزہ کے مطابق ان کل 31000 ہلاکتوں میں سے 72 فیصد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

تاہم اب نیتن یاہو نے 31000 کے عدد کو الٹا کر 13000 دہشت گردوں کی ہلاکت کا نام دے دیا ہے۔ حماس نے نیتن یاہو کے اس بیان کو اسرائیل کی جعلی کامیابی کا دعویٰ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی فوج کی غزہ میں جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک اسرائیلی فوج کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کے سامنے اچانک حماس والے آجائیں گے۔

نیتن یاہو نے انٹرویو میں کہا وہ سمجھتے ہیں کہ رفح میں کامیابی حماس کو شکت دینے اور اس کے خاتمے لیے ضروری ہے۔ گویا 13000 جنگجووں کی ہلاکت کے دعوے کے بعد بھی ابھی حماس کو شکست نہیں دی جا سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں