جب تک ثالثی مذاکرات کے لیے مفید ہوا، حماس قیادت دوحا میں رہے گی: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر نے حماس قیادت کے دوحا میں قیام کے بارے میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اس وقت تک قطر میں قیم رہ سکے گی جب تک غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں اس کی موجودگی مفید رہے گی تا کہ غزہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس امر کا اظہار حالیہ چند دنوں سے سامنے آنے والی خبروں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کی ہے۔

ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ انکی قطر میں موجودگی جب تک ثالثی کی کوششوں کے لیے مفید اور مثبت رہے گی حماس کے قائدین یہیں مقیم رہیں گے۔

واضح رہے حماس کی سیاسی قیادت قطری دار الحکومت دوحا میں مقیم ہے اس میں امریکی مہربانی کا دخل بھی شامل ہے۔

حالیہ کئی ہفتوں سے جنگ بندی کے لیے جاری ثالثہ کوششوں میں امریکہ کا پس پردہ کردار بھی اہم رہا ہے تا کہ حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنا سکے۔

تاہم رمضان المبارک کے دوران جنگ بندی کی کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد قطر کے وزیراعظم محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اب قطر اپنے ثالثی کے کردار کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔

قطری وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ قطر میں حماس قیادت کا مزید قیام اب مشکل ہو سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہیں اب قطر چھوڑ کر کسی اور ملک میں جانا پڑے ۔

اس سلسلے میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ حماس کی قیادت کم از کم دو دوسرے ملکوں سے بات کر چکی ہے کہ انہیں اپنے ہاں پناہ دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں