فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: رفح پر بمباری، دو بچوں سمیت کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی کے علاقے رفح میں ہونے والی تازہ اسرائیلی بمباری سے کم ازکم پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ بمباری جمعرات کے روز صبح سویرے کے اوقات میں کی گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں دو فلسطینی بچے بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان دونوں بچوں کی ہسپتال میں شناخت چھ سالہ شام نجار اور آٹھ سالہ جمال نبہان کے طور پر کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کی پچھلے تقریبا سات ماہ سے غزہ میں جاری بمباری کا بڑا اور اہم ہدف فلسطینی عورتیں اور بچے ہیں۔ اسی لیے بین الاقوامی عدالت نے اسرائیل کو جنوری میں حکم دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔

رفح غزہ کے انتہائی جنوب میں ایک سرحدی شہر ہے۔ جس میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی 23 لاکھ سے زائد آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ پناہ لیے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد پندرہ لاکھ ہے۔

اب رفح اور اس کی آبادی ہی اسرائیلی فوج کی بمباری کا اہم ہدف بنتی جارہی ہے۔ آئے روز رفح پر بمباری کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ رفح پر بڑی زمینی جنگ مسلط کرنے کی تیاری جاری ہے۔ امکانی طور پر امریکی اسلحے کی نئی منظور کردہ کھیپ اس رفح پر جنگ میں کام آتی رہے گی۔

دوسری جانب وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں مزید چار فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان چار فلسطینیوں کی لاشیں مقامی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان چار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ شمالی غزہ کی طرف جا رہے تھے۔

جہاں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو اپنے گھروں میں واپس آنے سے روکنے کے لیے ٹینکوں سے گولہ باری تک کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی ناکہ بندی کا سلسلہ ملبہ بن چکے غزہ میں بھی جاری ہے۔

دریں اثنا حماس کے سیاسی قائدین کے ذرائع نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ مدت کے لیے جنگ بندی پر تیار ہے اور ہتھیار چھوڑ کر ایک سیاسی جدو جہد تک محدود ہونے کو تیار ہے۔ بشرطیکہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام منظور کر لیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں