فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ بھیجی جانے والی امداد کی مقدار میں اضافہ کیا جائے گا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل میں آئندہ دنوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ فوج نے اس سلسلے میں نئی راہداریوں کا حوالہ دیا جو فلسطینی انکلیو میں داخلے کے لیے اسرائیلی بندرگاہ اور سرحدی گذرگاہوں کا استعمال کرتی ہیں۔

سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ تک رسائی بند کر دی گئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے غزہ کے 2.3 ملین لوگوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے امدادی قافلوں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔

ایک پھیلتے ہوئے انسانی بحران کی وجہ سے اسرائیل کے مغربی اور عرب شراکت داروں نے اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انکلیو میں امداد کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے مزید کام کرے جہاں زیادہ تر افراد بے گھر ہیں، کئی لوگوں کو قحط کا سامنا ہے اور وہاں شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ حال اور بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔

امریکہ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا، وہ اسرائیل کی جانب سے مزید انسانی امداد کی اجازت دینے کی تازہ ترین کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن کامیابی کا اندازہ زمینی صورت حال کو بہتر کرنے کے نتائج سے لگایا جائے گا۔

ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے ایک بیان میں کہا، "گذشتہ چند ہفتوں کے دوران غزہ جانے والی انسانی امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔"

ہگاری نے کہا، "خوراک، پانی، طبی سامان، پناہ گاہ کا سامان اور دیگر - غزہ میں یہ امداد پہلے سے کہیں زیادہ داخل ہو رہی ہے۔"

اس کے علاوہ امریکہ میں قائم خیراتی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن نے کہا کہ وہ پیر کو غزہ کی پٹی میں دوبارہ کام شروع کرے گا۔ ایک ماہ قبل اس کے سات کارکنان اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ہگاری نے کہا کہ ترسیل میں اضافہ اسرائیل کی اشدود بندرگاہ کے ساتھ ساتھ شمالی غزہ میں ایک نئی گذرگاہ اور غزہ کے جنوبی سرے پر کریم شالوم گذرگاہ کے ذریعے اردن سے داخل ہونے والی زیادہ امداد کا نتیجہ ہے۔

ہگاری نے کہا، اسرائیل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر ایک "عارضی سمندری پشتے" کی تعمیر کے لیے بھی کام کر رہا ہے جو جہاز تا ساحل تقسیم کی اجازت دے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "غزہ کے لوگوں کو امداد پہنچانا اولین ترجیح ہے کیونکہ ہماری جنگ حماس کے خلاف ہے نہ کہ غزہ کے لوگوں کے خلاف۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں