علی باقری کنی کو حسين امير عبد اللهيان کی جگہ نیا ایرانی وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی حادثے میں ہلاکت کے بعد معاون وزیر خارجہ علی باقری کنی کا نام نئے وزیر خارجہ کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ باقری کنی نے جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ منظر عام پر آیا تھا۔

بہت سے مبصرین نے کہا ہےکہ ایرانی وزیر خارجہ کے معاون برائے سیاسی امور علی باقری کنی جنہوں نے جوہری فائل میں ایرانی مذاکرات کار کے طور پر کام کیا وہ عبدللہیان کی جگہ وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

بعد ازاں آج پیر کو ایرانی حکومت نے باقری کنی کو وزارت خارجہ میں عبداللہیان کا جانشین مقرر کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ 57 سالہ سفارت کار کی پیدائش اکتوبر 1967ء کی ہے اور وہ ستمبر 2021 سے وزارت میں سیاسی نائب کے عہدے پر فائز ہیں۔

علی باقری کنی
علی باقری کنی

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری

اس سے قبل وہ 2007ء سے 2013 ء تک ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے 2013ء کے صدارتی انتخابات میں سعید جلیلی کی صدارتی مہم کی سربراہی بھی کی۔

وہ محمد باقر باقری کے بیٹے ہیں جو ماہرین کونسل کے سابق رکن ہیں اور محمد رضا مہدوی کنی کے بھتیجے ہیں۔

اس نے امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں ایک اہم مذاکرات کار کے طور پر کام کیا۔

وال سٹریٹ جرنل کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ ہفتے سلطنت آف عمان میں امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہونے والی بالواسطہ ملاقات کے بعد باقری کنی آئندہ بدھ کو جنیوا میں یورپی یونین کے حکام سے ملاقات متوقع تھی۔

تاہم اب رئیسی اور عبداللہیان کے ساتھ ساتھ ان کے سات ساتھیوں کی ہلاکت کی روشنی میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔

اس سے پہلے آج بروز پیر کو ایرانی ہلال احمر نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالنے کا اعلان کیا، جن میں صدر ابرہیم رئیسی، وزیر خارجہ عبداللہیان، اور سات دیگر افراد شامل تھے جو کل اتوار کو ملک کے شمال مغرب میں گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں