مجھے حماس کے حملے کے متعلق خبردار نہیں کیا گیا تھا: نیتن یاھو کا فوج کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کو سات اکتوبر کے حماس کے حملے کے ارادے سے خبردار کرنے کی معلومات سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے ان معلومات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ انہیں فوج کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات میں مستقبل قریب میں حماس کے کسی ممکنہ حملے سے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا فوجی دستاویزات نے مجھے حماس کے اسرائیل پر حملہ کرنے کے ارادوں سے خبردار نہیں کیا تھا بلکہ سب کچھ اس کے برعکس بتایا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں جو چار دستاویزات موصول ہوئی ہیں ان میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ حماس اسرائیل پر حملہ نہیں کرنا چاہتی بلکہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں 19 مارچ 2023 کو موصول ہونے والی پہلی دستاویز یا خط میں بتایا گیا کہ حماس کی حکمت عملی غزہ میں حکمرانی کو برقرار رکھنے اور دوسرے میدانوں میں اسرائیل کے خلاف جدوجہد پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔ نیتن یاھو نے انکشاف کیا کہ 31 مئی 2023 کو جاری دوسری دستاویز میں تل ابیب کو حماس کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ حماس کو مزید بڑھنے میں دلچسپی نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیسرے خط میں اسرائیل کے اندر ہم آہنگی اور تقسیم کے منفی اثرات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ انہوں نے خود متعدد بار اس مسئلے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ان کے دفتر نے 17 جولائی 2023 کو جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اندرونی تنازعات ہمارے دشمنوں کے خلاف مزاحمت کو ختم کرتے ہیں اور انہیں ملک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے اکساتے ہیں۔

نیتن یاہو کی یہ وضاحت اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئیں کہ وزیر اعظم کو مارچ اور جولائی 2023 کے درمیان انٹیلی جنس ڈویژن سے چار انتباہی خطوط بھیجے گئے تھے۔ ان میں بتایا گیا تھا کہ دشمن اسرائیل میں ہونے والی تقسیم اور اسرائیلی فوج پر ان کے اثرات کو کس طرح دیکھ رہے ہیں۔

خیال رہے جنگ کے پہلے مہینے کے دوران نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے سے قبل انہیں ریاستی سلامتی کے لیے کسی ممکنہ خطرے کے بارے میں کوئی انتباہ نہیں ملا تھا۔ ان کی طرف سے حماس حملے کی ذمہ داری فوج کے کمانڈروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد فوجی قیادت میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں