مصر کی وزارت داخلہ نے ایک اسکول میں استاد کی طرف سے طلبا کو اپنی پستول سے ہراساں کرنے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
جنوبی مصر میں سوہاج گورنری میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک تنازعہ چل رہا ہے جس میں ایک اسکول کے طلبا کو استاد کی طرف سے پستول سے ڈرانے کے واقعے پر والدین کا رد عمل سامنے آیا ہے۔
وزارت داخلہ کی سکیورٹی سروسز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" پر شائع ہونے والی تفصیلات کا انکشاف کیا کہ سوہاج گورنری کے ایک اسکول میں طالب علموں کے متعدد والدین کو ایک استاد نے اپنے ہی آتشیں اسلحہ سے خوف زدہ کیا۔
اسلحہ لے جانے کی اجازت
واقعے کی جانچ پڑتال کے بعد استاد کی شناخت کی گئی جو مذکورہ اسکول کا سکیورٹی اہلکار بھی تھا۔ اس کے پاس حفاظت کے لیے عارضی اجازت نامے کے تحت آواز بنانے والی پستول کے استعمال کا لائسنس تھا۔
ٹیچر اسکول کے اوقات میں اسکول کے اندر بندوق سے لیس تھا، جس کی وجہ سے اسکول میں طلباء کے والدین میں عدم اطمینان اور رد عمل کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
اسے طلب کرنےکے بعد لائسنس یافتہ اسلحہ واپس لے لیا گیا اور شرائط کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ جاری کیا گیا۔
-
مصر اور امریکہ کا کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے غزہ میں عارضی امداد پہنچانے پر اتفاق
مصری ایوان صدر نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے امریکی ...
بين الاقوامى -
عیدالاضحیٰ 17 جون کو ہوگی: مصری فلکیاتی ادارے کی پیش گوئی
آج ہفتے کو مصر میں فلکیاتی اور جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ طحہ رابح نے ...
مشرق وسطی -
مصر: امریکی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سیریل کلر نے 5 افراد کو قتل کردیا
مصر میں پورٹ سعید اور اسماعیلیہ گورنریوں میں 3 خواتین کو قتل کرنے اور ان کی لاشیں ...
ایڈیٹر کی پسند