رفح، پناہ گزینوں پر حملہ افسوسناک مگر حماس کی شکست کے لیے سب کچھ کیا سب کچھ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رفح کے پناہ گزین پر پیر کے روز کیے گئے اسرائیلی فوج کے حملے کو افسوس ناک حادثہ قرار دینے کے باوجود کہا ہے کہ حماس کو ہر صورت شکست دینا ہے۔ وہ گذشتہ روز اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے تھےجب اقوام متحدہ اور کئی یورپی ملکوں سمیت پوری دنیا میں اسرائیل کی مذت کی جا رہی تھی کہ اس کی فوج نے بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ پر حملہ کیا۔

اس حملے میں جو بمباری کی صورت تھا کم از کم 45 فلسطینی پناہ گزین ہلاک اور 249 زخمی ہو گئے ہیں۔ رفح پچھلے تقریباً آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران بے گھر ہونےوالے غزہ کے فلسطینیوں کی اکلوتی پناہ گاہ ثابت ہوا جہاں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ کے لگ بھگ بے گھروں نے اس عرصے میں پناہ لی۔

اب انہیں ایک بر پھر اسرائیلی فوج کے حملوں ، بمباری اور بے گھر و نقل مکانی کا سامنا ہے۔ وہ اسرائیلی فوج کے دباؤ پرنئی جگہوں پر منتقل ہو رہے ہیں مگر اسرائیلی فوج اس کی پرواہ کیے بغیر انہیں نشانہ بنا رہی ہے کہ یہ اسرائیلی فوج کے حکم کے مطابق دو بار نقل مکانی کر چکے ہیں۔ پیر کے روز بھی یہی ہوا ہے۔ جس کی دنیا بھر میں مذمت جاری ہے۔

مگر اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو جنگی جرائم میں مطلوب وزیر اعظم نیتن یاہو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس تمام تر دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف پوری دنیا سے ہے اور اپنے یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے ملک کے اندر سے ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کی جائے۔

نیتن یاہو نے اگرچہ یہ بھی کہا ہے کہ پیر کے روز پناہ گزینوں پر رفح میں حملہ افسوسناک حادثہ تھااور اس کی فوجی تحقیقات کرائی جارہی ہیں ۔،مگر اسی سانس میں انہوں نے اپنے اوپر اندرونی و بیرونی دباؤ کی مذمت کی ہے۔ فوج کا کہنا کہ اسے انٹیلی جنس اطلاعات تھی کہ اس کیمپ میں دو جنگجو تھے۔اس وجہ سے اسرائیلی فوج نے سینکڑوں کی تعداد والے اس پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی اور خیموں کو آگ لگ گئی۔

واضح رہے نیتن یا ہو پر پہلے یہ دباؤ اپنے ملک کے اندر اور باہر سے سفارتی سطح پر اور انسانی بنیادوں پر تھا مگر اب اس میں بین الاقوامی سطح پر اعلی ترین عدالتوں کی طرف سے بھی آنا شروع ہو گیا ، تاہم یاہو اسے قابل مذمت قرار دیتے ہیں۔

اس دباؤ کی پروا نہ کرنے کی اپنی عادت اور رویے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، یہ دباؤ ان پر اس جنگ کے شروع سے چلا آرہا ہے۔ پہلے یہ دباؤ اس وقت آیا جب ہم غزہ میں داخل ہونے لگے تھے، ہمیں کہا گیا کہ غزہ میں داخل نہ ہوں ۔ مگر ہم غزہ میں داخل ہو گئے، پھر کہا 'الشفا ہسپتال ' میں داخل نہ ہوں ہم الشفا میں بھی داخل ہو گئے، پھر کہا گیا خان یونس میں داخل نہ ہوں ہم وہاں بھی داخل ہوئے، اب کہا گیا رفح میں نہ داخل ہوں ہم نے رفح میں بھی داخل ہو کر دکھایا۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا وہ ہار نہیں مانتے۔ نہ وہ ہار مانیں گے بلکہ اندرون اور بیرون ملک سے دباؤ کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا ہم نے رفح سے دس لاکھ ' غیر متعلقہ ' افراد کو نکال دیا ہے، ہماری تمام تر کوششون کے باوجود کل کا واقعہ پیش آیا ہے، ہم اس کی تحقیقات کرا رہے ہیں، مگر مکمل فتح ضروری ہے، ہم حماس کو شکست دیں گے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک غزہ جنگ کے دوران 36050 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں دوتہائی تعداد فلسطینی عورتوں اور فلسطینی بچوں کی ہے۔ تازہ واقعہ جو رفح میں پیش آیا ہے اس میں 45 افراد ہلاک اور 249 زخمی ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کہہ رکھا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو رفح پر حملہ روکنے کے لیے کہہ رکھا ہے، مگر لگ بھگ آٹھ ماہ سے فتح کی تلاش میں اسرائیلی فوج ابھی اندھا دھند بمباری کر رہی ہے اور جنگ کر رہی ہے۔ اس کے باوجود اسے فتح نہیں ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں