ایک معمر کویتی شہری اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا جب وہ عالمی شہرت یافتہ گیم میں ایک شیشے کے ڈبے کے اندر سے سونے کی بھاری بار نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر وہ اس وقت حیران رہ گیا جب مقابلے کے منتظمین نےاسے کہا کہ وہ اس کا اہل نہیں۔
ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بزرگ آدمی کویتی عربی لہجے میں بات کرتا ہے اوراس کے ساتھ کئی خواتین بھی ہیں۔ اس بلین کو کمال، سکون اور حوصلہ کے ساتھ باکس سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اس پہلی کوشش نہیں بلکہ وہ اس سے قبل اس طرح کی کئی کوششیں کرچکا تھا جن میں وہ ناکام رہا تھا۔
لیکن اس شخص کو اس گیم سے باہر کردیا گیا۔ کویت کی ایک گولڈ کمپنی سے منسلک گیم کے منتظمین نے مقابلہ صرف خواتین کے لیے مختص کیا۔ کمپنی کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
بعد ما فاز تسحبونها منه عيب ؟ وتقولون المسابقة للنساء ؟ ومنا لوزارة التجارة وحماية المستهلك @mocikw pic.twitter.com/gI0dewYS02
— عبدالرزاق الحزامي 🇰🇼 (@hzamy2020) May 27, 2024
یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ مرکب خالص سونا ہے۔ کچھ بلاگرز نے کہا ہے کہ یہ ایک عام دہات ہے جس پر سونے کی قلعی کی گئی ہے۔ اس کا مقصد توجہ مبذول کرنا ہے۔ اگر یہ خالص سونا ہے تو کمپنی کے لیے اس مقدارکا تحفہ مختص کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہ مقابلہ سونے اور زیورات کی نمائش کے لیے منعقد کیا گیا تھا جو کل سوموار کو چھ روزہ سرگرمیوں پر اختتام پذیر ہوئی۔