فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے 'اونروا' نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں رفح سے دس لاکھ فلسطینی اسرائیلی فوج کی بمباری کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ 'اونروا' حکام نے یہ بات منگل کے روز کہی ہے۔
اقوام متحدہ کے جائزوں کے مطابق غزہ جنگ کے دوران 15 لاکھ فلسطینیوں نے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح میں پناہ لی تھی۔
مئی کے شروع میں اسرائیلی فوج نے رفح پر حملہ کیا۔ جس کا مقصد حماس کے جنگجووں کا خاتمہ بتایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی پناہ گزینوں کو کہا کہ وہ رفح شہر خالی کر دیں۔ رفح سے نکلنے والے فلسطینی پناہ گزین نہیں جانتے تھے کہ ان کی اگلی منزل کیا ہوگی۔
'اونروا' حکام کے مطابق 'پناہ گزین نہیں جانتے کہ رفح سے نکل کر انہیں کہاں جانا ہے۔ ان کے پاس خوراک ہے نہ پانی۔ ان کی حالت انتہائی نازک ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد و حفاظت ناممکن ہے۔'
-
رفح کراسنگ کھولنے کی بین الاقوامی تحریک کمزور پڑ رہی ہے: ذرائع
ایک طرف امریکہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک غزہ کی رفح لینڈ کراسنگ کو دوبارہ ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی ٹینک رفح شہرکے مرکز میں داخل ہوگئے: عینی شاہدین
اسرائیل نے رفح میں اپنے زمینی فوج کےحملے کے تین ہفتے مکمل ہونے کے بعد منگل کے روز ...
مشرق وسطی -
رفح : اسرائیلی بمباری سے بیسیوں پناہ گزینوں کی ہلاکت پر چین کا اظہار تشویش
چین کی طرف سے رفح میں اسرائیلی جنگی حملوں اور پناہ گزینوں کے کیمپ پر کی گئی تازہ ...
مشرق وسطی