اسرائیلی یرغمال نوا ارگمانی اپنی شدید بیمار والدہ کی عیادت کے لیے بروقت رہا

مغوی خاتون کے والد اور اہلِ خانہ ان کی واپسی پر خوش، دوست بدستور قید میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں آٹھ ماہ کی قید سے بچ جانے کے چند گھنٹے بعد رہا شدہ نوا ارگمانی اپنی شدید بیمار ماں کی عیادت کے لیے تل ابیب کے ایک ہسپتال پہنچیں۔

26 سالہ ارگمانی سات اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں اغوا کردہ یرغمالیوں میں سب سے زیادہ شناسا چہروں میں سے ایک تھیں۔ انہیں موٹرسائیکل کے پیچھے غزہ لے جانے، اپنی جان بخشی کی التجائیں کرنے اور نہایت شدت سے اپنے پیدل مارچ کرنے والے بوائے فرینڈ کے قریب پہنچنے کی دلخراش فوٹیج تمام دنیا میں پھیل گئی۔

ارگمانی کا بوائے فرینڈ ایوی ناتن اور بدستور قید میں ہے۔

ارگمانی کو ہفتے کے روز مرکزی غزہ میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت سے اسرائیلی سپیشل فورسز کی کارروائی میں تین دیگر یرغمالیوں کے ساتھ بازیاب کرایا گیا۔

اپنی واپسی پر انہوں نے اسرائیل کے صدر کے ساتھ ایک فون کال پر بات کرتے ہوئے کہا، "میں یہاں آکر بہت خوش ہوں۔" وہ دوستوں اور اہلِ خانہ کے درمیان خوشی سے مسکرا رہی تھیں۔

بعد ازاں تل ابیب سوراسکی میڈیکل سنٹر پہنچنے پر ان سے خوشی کا اظہار کیا گیا جہاں ان کی والدہ لیورا کے دماغی کینسر کا علاج جاری تھا۔

گذشتہ اکتوبر میں جنوبی اسرائیل میں ایک میوزک فیسٹیول سے بیٹی کے اغوا ہونے کے فوراً بعد لیورا نے ایک مقامی ٹیلی ویژن سٹیشن کو انٹرویو دیا۔ جب پوچھا گیا کہ وہ بیٹی سے دوبارہ ملنے کا تصور کیسے کرتی تھیں تو وہیل چیئر پر بیٹھی لیورا جواب دیا، "کم از کم اسے گلے لگانے کے قابل ہو جاؤں۔"

ہسپتال کے سی ای او رونی گامزو نے کہا کہ والدہ کی حالت "پیچیدہ اور سخت" تھی۔ انہوں نے کہا کہ ارگمانی اپنی والدہ کے ساتھ بات چیت کرنے میں کامیاب رہیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ سمجھ گئی تھیں کہ ان کی بیٹی گھر پہنچ گئی تھی۔

گامزو نے کہا، "پچھلے آٹھ مہینوں سے ہم انہیں اس حال میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بات چیت کر سکیں۔"

ارگمانی کے والد یاکوف نے پہلی بار ان سے ملاقات کی جب ایک فوجی ہیلی کاپٹر انہیں واپس اسرائیل لے کر آیا۔

انہوں نے کہا، "آج میری سالگرہ ہے اور مجھے ہرگز یقین نہ تھا کہ ایسا تحفہ مجھے ملے گا۔"

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق نووا ڈانس فیسٹیول میں ہنگامہ آرائی کے دوران 360 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 40 کو حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔

وسطی تل ابیب میں ہسپتال کے قریب ایک جگہ اب یرغمالی چوک کے نام سے معروف ہے۔ وہاں ہزاروں اسرائیلیوں نے چار یرغمالیوں کی بازیابی کی یاد منانے اور غزہ میں باقی رہ جانے والے 115 سے زیادہ اسیران کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں