اسرائیلی فوج پر مغربی کنارے کے تشدد میں آباد کاروں کی 'فعال' حمایت کا الزام

فوج اور آبادکاروں کے درمیان فرق مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے جس کی موجودہ حکومت نے حوصلہ افزائی کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جیسا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے شدید نکتہ چینی کی ہے کہ اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے درمیان فرق مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے اور آبادکاری کی حامی موجودہ حکومت نے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

سابق فوجیوں پر مشتمل اسرائیلی قبضے کی مخالف ایک غیر منافع بخش تنظیم بریکنگ دی سائیلنس کے ایڈوکیسی رابطہ کار جو کارمل نے کہا، مغربی کنارے میں "فوج اور آباد کاروں کے درمیان جو لکیر واقعتاً کبھی موجود ہی نہ تھی"، اب "مکمل طور پر مٹ چکی" ہے۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے سات اکتوبر سے 31 مارچ کے درمیان علاقے میں فلسطینیوں پر آباد کاروں کے 1,096 حملے ریکارڈ کیے ہیں۔

یہ روزانہ اوسطاً چھ حملے بنتے ہیں جو 2022 میں روزانہ دو تھے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپ ییش دین جو آباد کاروں کا تشدد بھی ریکارڈ کرتا ہے، نے کہا کہ 2023 پہلے ہی تشدد کے عروج کا سال تھا۔

ہر حملے کے ساتھ ایک ہی کہانی ہوتی ہے — مسلح آباد کار جو کبھی کبھی فوج کی خاکی پتلونوں میں ملبوس ہوتے ہیں، فلسطینی دیہاتیوں پر حملہ کر دیتے ہیں، ان کے مکانات اور گاڑیاں جلاتے اور ان کے مویشی چرا لیتے ہیں۔ کبھی کبھار تو وہ فوجیوں کی مجہول نظروں کے سامنے یہ سب کرتے ہیں۔

13 اپریل کو دوما کے شمالی مغربی کنارے کے گاؤں میں فلسطینیوں نے دہشت کی حالت میں دیکھا کہ سینکڑوں آباد کاروں نے ان کے گاؤں پر حملہ کیا اور ایک دیہاتی کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ اس سے پہلے ایک اسرائیلی نوجوان مردہ پایا گیا جو اکثر قریبی بستیوں کی چوکی کے قریب نظر آتا تھا۔

22 اپریل کو فوج نے اعلان کیا کہ اس نے نوجوان کو قتل کرنے کے شبہ میں ایک دیہاتی کو گرفتار کیا تھا۔

'تمام رہائشیوں کی حفاظت کریں'

گاؤں کی کونسل کے سربراہ سلیمان دوابشہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس دن اسرائیلی فوج آبادکاروں کے چھاپے کے دوران "ان کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ان کی حفاظت کے لیے گاؤں کے اندر موجود تھی۔"

ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی کنارے میں فوجی "تمام رہائشیوں کی املاک اور جان کی حفاظت اور جھڑپوں کو منتشر کرنے" کے لیے موجود تھے۔

الحاق شدہ مشرقی یروشلم کے علاوہ 490,000 سے زیادہ اسرائیلی تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ مغربی کنارے کی بستیوں میں رہتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔

1967 کی عرب-اسرائیل جنگ میں مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے متواتر حکومتوں کے تحت بستیوں کی توسیع میں تیزی آئی ہے لیکن وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی آبادکاری کی حامی انتظامیہ کے تحت اس میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

13 اکتوبر کو ایک آباد کار نے 20 سالہ زکریا العدرہ کو اس وقت بہت قریب سے گولی مار دی جب وہ مغربی کنارے کے جنوب میں گاؤں التوانی میں ایک مسجد سے نکل رہا تھا۔

ان کی 24 سالہ بیوی شوق العدرہ کے مطابق سپاہیوں نے "سب کچھ دیکھا" لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ زکریا کو شدید زخم آئے۔

بریکنگ دی سائیلنس تنظیم کے کارمل نے کہا، مذہبی صہیونی آباد کار اب وردی میں اور سینئر افسران میں زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔ ان کا اشارہ گذشتہ عشرے میں فوج میں ہونے والی ایک معاشرتی تبدیلی کی طرف تھا۔

حیبرون یا الخلیل کے علاقے میں فلسطینیوں کی مدد کرنے والے 57 سالہ اسرائیلی کارکن ایہود کرینس نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی ہے، "ہم نے کچھ آباد کار فوج کی وردی پہنے ہوئے دیکھا ہے۔"

ہیومن رائٹس واچ نے اس ابہام کی مذمت کرتے ہوئے کہا، گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

'فعال شرکت'

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اکتوبر اور نومبر 2023 کے درمیان پانچ مختلف فلسطینی دیہاتوں میں آباد کاروں کی طرف سے کیے گئے پانچ حملوں کی تحقیقات کیں اور اپریل میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "مغربی کنارے میں آباد کاروں کے پرتشدد حملوں میں اسرائیلی فوج نے یا تو حصہ لیا یا فلسطینیوں کی ان کے خلاف حفاظت نہیں کی"۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا، "شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسلح آباد کاروں نے فوجی یونٹوں کی فعال شرکت کے ساتھ سڑکیں بند کیں اور کئی مواقع پر فلسطینی برادریوں پر حملے کیے: انہوں نے باشندوں کو حراست میں لیا، ان پر حملہ اور تشدد کیا اور انہیں ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا۔"

اپریل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینہ شمداسانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، "اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو فلسطینیوں پر آباد کاروں کے حملوں میں اپنی فعال شرکت اور ان کی حمایت کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے"۔

نیز انہوں نے کہا، "اسرائیلی حکام کو اس کے بجائے مزید حملوں کو روکنا چاہیے جس میں ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں لانا شامل ہے۔"

زرعی کام کی کمیٹیوں کی فلسطینی انجمن کے ایڈووکیسی ڈائریکٹر مؤید بشارت نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے آبادکاری کے علمبردار اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کی اسرائیلی حکومت میں شمولیت نے آباد کاروں کو فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے لیے گویا "ہری جھنڈی" دکھا دی۔

کارمل کہتے ہیں کہ نیتن یاہو کی حکومت کا مقصد واضح ہے -- "آبادکاری تحریک کو مضبوط کرنا اور ایسا کرتے ہوئے فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کے کسی موقعے کو ناممکن بنانا"۔

اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ "فوجیوں کے رویئے کے بارے میں شکایات کو دیکھتی ہے جو احکامات کے مطابق نہ ہوں"۔

لیکن کارمل نے کہا کہ "بہت نایاب صورتوں میں" آباد کاروں اور پرتشدد فوجیوں کی صرف مذمت کی جاتی ہے۔

نیز انہوں نے کہا، "ریاستی پراسیکیوٹر اور پوری حکومتی مشینری ایسے ڈیزائن کی گئی ہے کہ ان کی حفاظت کی جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں