اللہ اکبراللہ اکبرکی گونج ،مسجد اقصیٰ میں نمازعید کی ادائیگی کے لیے ہزاروں کا اجتماع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اتوار کی صبح ہزاروں مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم تر قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ مسجد اقصی میں عید الاضحیٰ کا یہ اجتماع ساڑھے آٹھ ماہ سے جاری غزہ جنگ کے دوران پہلی عید الاضحیٰ تھی اور ' بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ 'کا بھر پور اظہار تھی۔

مغربی کنارے میں مختلف علاقوں سے بھی لوگوں نے نماز عید کے لیے مسجد اقصی پہنچنے کی کوشش کی مگر ان کی راہ میں روایتی رکاوٹیں موجود رہیں ۔ اسلیے یروشلم سے بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمان مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے۔

فلسطینی مردوں کے علاوہ فلسطینی خواتین بھی بڑی تعداد میں صبح سویرے ہی مسجد اقصیٰ پہنچنے کی کوشش میں نظر آئے۔ طلوع آفتاب کے ساتھ ہی یروشلم کے پرانے شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو چکی تھی۔ یہ سب لوگ مسجد اقصیٰ پہنچنے کے لیے روانہ تھے۔ مسجد کے خواتین کے لیے مختص احاطے کے باہر مٹھائیاں تقسیم کرنے کی روایتی سرگرمی جاری تھی۔

خواتین نے احاطے میں مساجد کے باہر مٹھائیاں تقسیم کیں اور پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں تہواروں کا ہجوم جبکہ پرانے شہر کی گلیوں میں بھی لوگ موجود تھے، خیال رہے پرانے شہر کی گلیاں تنگ ہیں، جو اتوار کی صبح سے ہی تکبیرات ادا کرنے والوں کی آوازوں سے گونج رہی تھیں۔

اس سال عید الاضحیٰ کی تقریبات کی تیاریوں پر غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سائے غالب رہے۔ اب تک اس جنگ میں 37296 فلسطینی جن میں بچوں ، بچیوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کے علاوہ فلسطینیوں کے معاشی حالات بھی کافی متاثر ہو چکے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کی وزارت اقتصادیات نے چند روز پہلے ہی فلسطینیوں کی قوت خرید میں سخت کمی ہوجانے کا بتایا ہے۔ تاہم اس کے باوجود مسجد اقصیٰ کی طرف رواں دواں فلسطینیوں کے جذبہ بندگی و قربانی میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کے لیے جوق در جوق پہنچے تھے۔

فلسطینی وزارت اقتصادیات نے حال ہی میں کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بہت سے فلسطینیوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں