غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ شہر میں ایک طبی کلینک پر اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے ایمبولینس اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملے میں حماس کا ایک سینئر مسلح کمانڈر مارا گیا۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ ہانی الجعفراوی کی ہلاکت سے سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے طبی عملے کی تعداد 500 ہو گئی ہے۔ اب تک کم از کم 300 دیگر افراد زیرِ حراست ہیں۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملے میں محمد صلاح کو نشانہ بنایا گیا جو اس کے مطابق حماس کے لیے ہتھیار تیار کرنے کا ذمہ دار تھا۔
فوج نے کہا، "صلاح حماس کی دہشت گرد تنظیم کے لیے تزویراتی ہتھیار تیار کرنے کے منصوبے میں شریک تھا اور اس نے حماس کے متعدد دہشت گرد دستوں کی کمان کی جو ہتھیار تیار کرنے کا کام کرتے تھے۔"
جنگ کو آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود امریکہ کی حمایت یافتہ بین الاقوامی ثالثی اب تک جنگ بندی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حماس کہتی ہے کہ کسی بھی معاہدے کے تحت جنگ کا خاتمہ ضروری ہے جبکہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حماس کے خاتمے تک لڑائی میں صرف عارضی وقفے پر اتفاق کرے گا۔
رہائشیوں نے شدید لڑائی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا، مصر کے ساتھ سرحد کے قریب رفح میں اسرائیلی افواج جنہوں نے شہر کے مشرقی، جنوبی اور وسطی حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا، مغربی اور شمالی علاقوں میں اپنی کارروائی جاری رکھی۔
اتوار کے روز رہائشیوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے رفح کے شمال مغرب میں واقع بے گھر افراد کے المواصی کیمپ کے کنارے تک پیش قدمی کی تھی جس سے کئی خاندان شمال کی طرف خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے۔ یہ غزہ انکلیو کا واحد شہر ہے جہاں ابھی تک ٹینکوں نے قبضہ نہیں کیا ہے۔
رفح کے ایک رہائشی بسام نے کہا، "مغربی رفح میں تل السلطان کی صورتِ حال بدستور کافی خطرناک ہے۔ ڈرون اور اسرائیلی نشانہ باز ان لوگوں کا شکار کر رہے ہیں جو اپنے گھروں کی تلاشی لینے کی کوشش کرتے ہیں اور ٹینک مزید مغرب میں المواصی کے بالمقابل علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
انہوں نے ایک چیٹ ایپ کے ذریعے رائٹرز کو بتایا،"ہم سڑکوں پر ہلاک شدہ لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں اور ہم جانتے اور ہم دیکھتے ہیں کہ قابض نے درجنوں مکانات تباہ کر دیئے ہیں۔"
اسرائیل شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید اور حماس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ان کی ہلاکتوں کا باعث ہے جس کی حماس تردید کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ افواج نے رفح میں "انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہدفی کارروائیاں" جاری رکھیں جس میں ہتھیاروں اور راکٹ لانچرز کا پتا لگایا اور مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا "جو ان کے لیے خطرہ تھے"۔
انکلیو کے شمال میں جہاں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے مہینوں پہلے آپریشن مکمل کر لیا تھا، وہاں کے رہائشیوں نے کہا کہ ٹینکوں نے غزہ شہر کے مضافاتی علاقے زیتون میں کارروائی معطل کر دی اور وہاں کے کئی علاقوں پر گولہ باری کر رہے تھے۔
-
غزہ کے لیے امداد قافلے میں شامل تین ٹرک الٹنے سے اردن کے دو فوجی جاں بحق
اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے 3 ...
مشرق وسطی -
غزہ کی جنگ اور یہود دشمنی کے سبب بائیڈن کو یہودیوں کے ووٹوں سے ہاتھ دھونے کا خطرہ!
امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقوں میں اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ 7 اکتوبر ...
بين الاقوامى -
غزہ جنگ میں اموات 37,598 ہو گئیں: وزارتِ صحت
غزہ کی وزارتِ صحت نے اتوار کو بتایا کہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری حماس-اسرائیل ...
مشرق وسطی