یمنی فضائی کمپنی کے چار طیاروں پر حوثیوں کا قبضہ، صدارتی کونسل کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں صدارتی قیادت کونسل نے حوثی ملیشیا کی جانب سے قومی فضائی کمپنی کے طیاروں کو اغوا کرنے کے عمل کو دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔ اس طرح حوثیوں نے کئی برس سے جاری اپنی تخریبی کارروائیوں کو مزید وسیع کر لیا ہے جن میں گذشتہ برسوں کے دوران قومی اور غیر ملکی فضائی اور بحری نقل و حمل کے ذرائع پر قبضہ شامل ہے۔

صدارتی کونسل نے جمعے کی شام ایک خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم کے زیر صدارت ایک حکومتی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی تا کہ اس بحران کی نگرانی کی جا سکے۔ ساتھ ہی اگلے نوٹفکیشن تک حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اغوا کیے گئے طیاروں کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں دو مہینوں سے مرمت کے لیے زیر قبضہ طیارے کی آزادی بھی شامل ہے۔

چند روز قبل حوثی باغیوں نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کی قومی فضائی کمپنی کے 4 طیارے اغوا کر لیے تھے۔ مزید یہ کہ حجاج کی واپسی کا عمل روک دیا تھا جس کے سبب یمنی حجاج کرام سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اجلاس میں جاری بیان میں اس خطرناک چڑھائی کے نتائج کی تمام ذمے داری حوثی ملیشیا پر عائد کی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق اس کا مقصد شہریوں کے مسائل میں اضافہ ، قومی فضائی کمپنی کی پروازوں پر اثر انداز ہونا اور کمپنی کو بھاری نقصان پہنچانا ہے۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشاورت کے نئے دور کے انعقاد کے انتظامات بھی زیر بحث آئے۔ مشاورت کا مقصد حوثیوں کے پاس یرغمال اور مغوی افراد کے معاملے پر بات چیت ہے۔

صدارتی قیادت کونسل نے کچھ عرصہ قبل حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ اور مقامی و غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کے ملازمین کے خلاف اغوا کی مہم کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر انتہائی دباؤ ڈالنے کی اہمیت کو باور کرایا گیا تا کہ حوثی ملیشیا غیر مشروط طور پر ان تمام مغویوں کو رہا کر دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں