یمنی حوثیوں نے ایک اور جہاز پر بلیسٹک میزائل سے حملہ کر دیا
ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے سمندر میں اسرائیلی اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں پر حملے جاری ہیں۔ منگل کے روز ایسے ہی ایک حملے کے حوالے سے یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 'ایم ایس سی' سارا وی نامی جہاز کو بحیرہ عرب میں حوثیوں نے ایک روز بیلسٹک میزائل کے ذریعے کیے گئے حملے کی ذمہ داری باضابطہ قبول کر لی ہے۔
بحیرہ ہ احمر اور خلیج عدن کی اطلاعات کو مشترکہ طور پر مانییٹر کرنے والے ادارے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے ایک روز پہلے پیر کے دن اطلاع دی تھی کہ لائیبریا کے جھنڈے کے حامل ایک جہاز کو بحیرہ عرب میں میزائل سے ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ جہاز اس میزائل سے نشانہ نہیں بن سکا تھا۔
جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سنٹر کے مطابق ہو سکتا ہے اس جہاز کو اسرائیل کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔
حوثیوں کے ترجمان یحیٰ ساریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جہاز کو میزائل سے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے اور میزائل نشانے پر لگا ہے۔ یہ بھی کہا ہے یہ جہاز اسرائیلی سے تعلق رکھتا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ جہاز پر موجود عملے کے ارکان محفوظ رہے ہیں ۔ برطانوی میری ٹائم کے مطابق یہ جہاز یمنی ساحل سے 246 سمندری میل کے فاصلے پر تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا اور اگلی بندر گاہ کی طرف جارہا تھا۔
ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے ماہ نومبر 2023 سے ان سمندری راستوں سے گذرنے والے مخصوص جہازوں کو اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں لے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملے کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔
اس دوران یمنی حوثی اب تک ان جہازوں پر درجنوں بار میزائل داغ چکے ہیں۔ یا دوسرے ذرائع سے انہیں نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان حملون کے نتیجے میں دو جہاز مکمل ڈوب گئے، ایک پر حوثیوں نے قبضہ کی اور کم از کم تین جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔