سعودی عرب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ڈاکٹر عبداللہ العنزی اپنے بیٹے عبدالعزیز کو گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کی جھیل برائنز پر واقع گیزباخ آبشار میں ڈوبنے سے بچانے میں ناکام رہے۔ وہ تفریحی سفر پر تھے جو ان کی موت کے بعد المناک ہو گیا۔
’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو حاصل تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ العنزی اپنے دو سالہ بیٹے کے ساتھ جنوبی سوئس الپس میں آبشار کی چٹانوں کے کنارے پر موجود تھے۔ بچے کی پاؤں پھسل گیا اور وہ شدید سیلاب کے بیچ میں گر گیا۔ ڈاکٹر نے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی۔ بیوی اور بیٹی کی آنکھوں کے سامنے ڈاکٹر بھی پانی کی نذر ہوگیا۔ اس موقع پر بیٹی اور بیوی کی آنکھوں میں آنسو بہتے رہے۔ پولیس لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھنے کے لیے پہنچی اور کوشش کے بعد ڈاکٹر کی لاش نکال لی گئی۔
مقتول کے بھائی ڈاکٹر عامر العنزی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ بھائی اور ان کے بیٹے کے آبشار میں گرنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا۔ سفارت خانے نے اس معاملے کو دیکھا۔ والد کی لاش دو دن بعد برآمد ہوسکی اور پھر اسے سعودی عرب بھجوا دیا گیا۔ بیٹے کی لاش اب تک نہیں ملی اور اس کی تلاش جاری ہے۔
باسم معالي رئيس الجامعة وكافة منسوبيها من أعضاء هيئة التدريس والطلبة، تنعى #كاساو ببالغ الحزن وفاة الدكتور عبدالله معيوف العنزي، رئيس وحدة الأبحاث بكلية العلوم الطبية التطبيقية بالرياض وأستاذ العلاج التنفسي، نسأل الله أن يتغمده بواسع رحمته ومغفرته. pic.twitter.com/C0cUU0JeDW
— جامعة الملك سعود بن عبدالعزيز للعلوم الصحية (@KSAU_HS) June 29, 2024
سوئس اخبار Swissinfo.ch نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک خاندان دو چھوٹے بچوں کے ساتھ پیدل سفر کر رہا تھا جب برن کینٹن پولیس کے مطابق ایک بچہ اور اس کا والد گیزباخ آبشار میں گر گئے۔ وجوہات کی ابھی تک وضاحت نہیں کی گئی۔ رپورٹ موصول ہونے اور خطرے کی گھنٹی بجنے کے بعد ریسکیو سروسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کئی ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔ ایک اخباری رپورٹر جو واقعہ کے وقت قریب ہی موجود تھا نے کہا کہ ماں مکمل طور پر پریشان تھیں۔ عورت چیخ رہی تھی اور کہ رہی تھی میں اپنے گھر والوں کو کہاں تلاش کروں؟