غزہ جنگ نیتن یاھو کے تحفظات کی وجہ سے طول پکڑے گی: اسرائیلی سروے
قیدی تبادلہ کے معاہدے پر رکاوٹوں پر بات چیت کے لیے اسرائیل پیر کو دو وفود دوحہ اور قاہرہ بھیجے گا
اسرائیلی چینل 12 کی طرف سے کرائے گئے ایک رائے عامہ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف سے زیادہ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ نو ماہ سے جاری غزہ جنگ نیتن یاہو کے "سیاسی تحفظات" کی وجہ سے طول پکڑ رہی ہے۔ سروے کے مطابق 54 فیصد افراد نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ نیتن یاہو کے سیاسی تحفظات ہیں۔ 34 فیصد کے مطابق آپریشنل وجوہات کی بنا پر جنگ ختم نہیں ہوسکی۔ 12 فیصد نے اس حوالے سے غیر یقینیت کا اظہار کیا۔
جواب دہندگان میں سے 68 فیصد نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا جنگ سے نمٹنے کا طریقہ "خراب تھا"۔ اس کے مقابلے میں 28 فیصد نے جنگ سے نمٹنے کے طریقے کو اچھا خیال کیا اور چار فیصد نے غیر یقینیت کا اظہار کیا۔ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب کل دو وفود دوحہ اور قاہرہ بھیجے گا تاکہ تبادلے کے معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق رکاوٹوں پر بات چیت کی جا سکے۔
ویب سائٹ ایکسیوس نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائیں گے تاکہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھیں۔ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کئی ہفتے جاری رہ سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں خونریز حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حماس کے مطابق بے گھر ہونے والے لوگوں کے ایک سکول ہاؤس کو نشانہ بنایا گیا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ اپنے دسویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ نُصیرات کیمپ میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے "الجاعونی‘‘ سکول کے علاقے کو نشانہ بنایا جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (اونروا) سے منسلک ہے۔ فوج نے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ اس جگہ کو ایک ٹھکانے اور آپریشنل انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جہاں سے فوجیوں کے خلاف حملے کیے جاتے تھے۔ حملے کے دوران شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے تھے۔
ایجنسی فرانس پریس کے ساتھ رابطے میں اونروا نے کہا ہے کہ اس کے پاس فوری طور پر مکمل معلومات نہیں ہیں لیکن جنگ کے آغاز کے بعد سے اس کے آدھے سے زیادہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان مراکز میں پناہ لینے والے کم از کم 500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بہت سی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ انروا نے بتایا کہ ہفتہ کے روز اسرائیلی حملے میں اس کے دو ملازمین مارے گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قتل عام کے دوران اب تک کم از کم 38098 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔