حملہ آوروں کے خلاف شکایت درج کرانے پر شامی خاندانوں کو ترکیہ سے ملک بدری کی دھمکی

ہم خوفزدہ ہیں، ہم نہیں جانتے ہمارا جرم کیا ہے کیونکہ ہم جنگ میں نہیں مرے؟ ترکیہ میں مقیم شامی خاتون کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ترکیہ میں حملہ آوروں کے خلاف شکایت درج کرانے پر شامی خاندانوں کو ترکیہ سے ملک بدری کی دھمکی دی جانے لگی ہے۔ ترکیہ میں نسلی کشیدگی میں اضافے کی روشنی میں شامی پناہ گزینوں کے مصائب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ قیصری شہر میں ایک شامی خاندان پر اس کے پڑوسیوں نے حملہ کردیا۔ جس کی وجہ سے شادی خاندان کے افراد کو ہی جلاوطنی کے ایک مرکز میں نظر بند کر دیا گیا۔ اب انہیں خطرہ ہے کہ انہیں شام واپس بھیج دیا جائے گا۔

اخبار ’’ قرار‘‘ کے مطابق خاندان چھ افراد پر مشتمل ہے جن میں دو چھوٹے بچے بھی شامل ہیں اور یہ واقعات ان الزامات کے بعد سامنے آئے کہ 15 سالہ بچے نے پڑوسیوں کو دھمکیاں دیں جس کی وجہ سے اسے پوری رات گرفتار کرنا پڑا۔ اس کی رہائی کے بعد پولیس واپس آئی اور پورے خاندان کو حراست میں لے لیا۔ ان کے فون ضبط کر لیے اور جسمانی تلاشی لی۔

قیصری شہر میں ایک ترک لڑکی کے خلاف ایک غیر ملکی کی طرف سے جنسی زیادتی کے الزامات کے پھیلنے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ مشتعل ہجوم نے نسل پرستانہ نعرے لگائے اور شامی گھروں اور دکانوں پر حملہ کردیا۔ مقامی حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی ترک نہیں بلکہ شامی تھی اور حملہ آور بھی شامی تھا جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پناہ گزینوں کی املاک پر حملے جاری رہے۔ اس واقعہ کے بعد پناہ گزینوں پر جسمانی حملے اور تشدد کے واقعات ایک سے زیادہ شہروں میں ریکارڈ کیے گئے۔

تشدد دوسرے شہروں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں انطالیہ میں نوجوان شامی شخص احمد حمدان النیف جاں بحق ہو گیا جسے ترکوں کے ایک گروپ نے چاقو کے وار کر کے مارا تھا۔ یکم جولائی کی رات جنوب مشرقی صوبے عنتاب کے ضلع نزیب میں بہت سی دکانوں اور گھروں پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس سے شامیوں کو عوامی مقامات سے گریز کرنے اور اپنی دکانیں بند کرنے پر اکسایا گیا۔

23 سالہ آدم نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ اس کی گاڑی اور اس کے پڑوسیوں کی دکانوں پر پتھروں سے حملہ کیا گیا ہے جس سے میں اپنی جان کے خوف سے گھر میں رہنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔ آدم نے کہا ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں اب تو کچھ بھی محسوس نہیں کرتے کیونکہ جب بھی ملک میں کچھ ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہم نشانہ بنتے ہیں۔

پانچ بچوں کے باپ فصیح کو بھی ان واقعات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس نے اپنے بچوں کے خوف سے گھر بند کر دیا اور کام پر جانے سے گریز کیا۔ فصیح نے بتایا میں دو دن سے کام پر نہیں گیا۔ میں دیہاڑی دار ہوں اگر میں کل نہ گیا تو گھر میں روٹی بھی نہیں ملے گی۔ اس وقت ہماری حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی وقت مارا جا سکتا ہے۔

ایک ترکمان سٹور کے مالک حسن، جس کے سٹور کو توڑا گیا اور حملہ کیا گیا، نے کہا کہ میں نے اس سٹور کو کھولنے کے قابل ہونے کے لیے بڑی محنت کی تھی لیکن ایک آدمی آیا اور چلایا، 'تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم اپنا سٹور کھولو؟'

حلب سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں عائشہ نے باتیا کہ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے مسلسل خوف میں رہتی ہے۔ عائشہ نے اپنے بیٹے کو کام پر بھیجنے کا ارادہ کیا تھا لیکن ایک اور شامی لڑکے پر حملہ کیا گیا تو میں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ عائشہ نے کہا کہ ہم خوف زدہ ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارا جرم کیا ہے کہ ہم جنگ میں نہیں مرے؟

گھروں کے مالکان کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کے لیے کرائے میں اضافے کے مطالبات سے بھی بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے شامی افراد کی مشکل زندگیوں میں اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ کچھ لوگوں کی جانب سے معمول کی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود دھمکیوں اور بڑھتے ہوئے تشدد نے معمول کی جانب لوٹنا ناممکن بنا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں