سعودی شاہی محل مملکت میں سیاحت کو شاہانہ انداز دینے کے لیے تیاری کے مراحل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی شاہی خاندان کے تاریخی محلات کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے ویژن 2030 کے تحت پر تعیش تفریحی و سیاحتی مقامات میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقصد سیاحوں پر پر آسائش سیاحتی مواقع فراہم کرنے کے علاوہ سعودی تاریخ و ثقافت کے جھروکوں سے بھی آشنا ہونے کا موقع دینا ہے۔

ان سعودی محلات میں شاہ سعود بن عبدالعزیز کے رہاش گاہ رہنے والے تاریخی محل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جسے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور برطانیہ کی لیڈی ڈیانا کی میزبانی کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔

علاوہ ازیں بھی بہت سی بین الاقوامی شخصیات ان شاہی محلات میں ضیافتوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ گویا بہت سی تاریخی ملاقاتوں ، مشوروں اور فیصلوں ہی نہیں شاہی فرامین کے اجراء کے بھی یہ محل عینی شاہد اور امین ہیں۔

اس فیصلے کہ انہیں سیاحتی مراکز میں تبدیل کر دیا جائے کے بدولت ان کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کا راستہ بھی کھلتا رہے گا اور تاریخی واقعات و نوادرات کے محفوظ کرنے کی بھی لگاتار کوشش جاری رہے گی۔

یہ سعودی شاہی محلات اس غرض کے لیے ' پی آئی ایف ' کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ 'پی آئی ایف ' ایک ملکیت کی حامل کمپنی ہے اور میزبان ادارہ ' یونیک گروپ ' ہے جو ویژن 2030 کے تحت دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی میزبانی کیا کرے گا۔ نیز سعودی محلات انتہائی پر تعیش یونیک ہوٹلوں میں بھی تبدیل کرنے کا کام کرے گی۔

اس یونیک گروپ کے سربراہ مارک ڈی کوکینیس کا اس سلسلے میں کہنا ہے' تین شاہی محلات میں ریاض کا سرخ محل ، تویق محل اور جدہ کا الحمراء محل شامل ہیں۔ جنہیں اس وقت مستقبل کے سیاحتی مقاصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ مزید کئی محلات کو بھی اس کھاتے میں زیر غور رکھا گیا ہے۔

انہوں نے ' العربیہ ' کو بتایا ان قیمتی اور شاندار املاک میں سے ہر ایک سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کا بھی شاہکار بن کر سامنے آئے گا۔ اس میں سعودی ثقافت کا ہر علاقے کے حوالے سے ایک نیا انداز بھی ہو گا اور ایک نیا ثقافتی دروازہ بھی۔ اس مقصد کے لیے تینوں محلات کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔

جدہ کا الحمراء پیلس

یہ 1960 کی دہائی کے اواخر کی یاد گار ہے اور جدہ کے مشہور کانیش کے ساتھ واقع ہے۔ اسے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی رہائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر اس کی تکمیل کے بعد شاہ فیصل نے اسے اپنی رہائش کے بجائے معزز مہمانوں کے لیے مختص کر دیا۔ برسوں یہ محل عرب دنیا اور عرب دنیا سے باہر کے معزز مہمانوں کی میزبانی کے لیے خاص رہا۔

اس محل میں امریکی صدر رچرڈ نکسن ، فرانس کے جیک شیراک ، برطانیہ کی شہزادی ڈیانا اور برطانوی شاہ چارلس سوم تشریف لا چکے ہیں۔

تویق محل

یہ ریاض کے سفارتی کوارٹرز میں واقع ایک اور شاندار شاہی رہائش ہے۔ یہ 1985 میں تیار ہوا اور 1998 میں اسے اس کے آرکیٹیکٹ کی وجہ سے آغا خان ایوارڈ ملا۔ یونیک کے سربراہ کے مطابق یہ ریاض کا سب سے منفرد اور خوبصورت تعمیراتی حوالہ ہے۔

اس تویق محل کے ایک جانب صحرائی قلعے اور بدوی خیموں کی شاندار جھلک ملتی ہے اور دوسری جانب نجد کے علاقے کی روایتی جمالیاتی شان دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس محل کی تعمیر سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شاہ سعود کے لیے کرائی تھیں۔ یہ مملکت میں تیل کی دریافت کے ابتدائی دور کی یاد گار ہے۔

ریاض کا سرخ محل

یہ شاہی محل ریاض میں کنکریٹ کی پہلی عالی شان عمارت کے لیے آرٹ ڈیکو ڈیزائن پسند کیا گیا تھا۔ ڈی کونسینس کے مطابق یہ اقدامات مملکت کے ثقافتی ، صنعتی اور معاشی کے لیے اہم ہیں۔

مملکت نے دوہزار سترہ میں ویژن 2030 کے 100 ملین سیاحوں کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ اب ان شاندار اور پرتعیش ماہانہ محلات کو ہوٹلوں میں تبدیل کر کے سیاحت کے شعبے میں ایک نئی زندگی کی لہر دوڑائیں گے۔

کمپنی کے سربراہ نے کہا برس ہا برس سے سعودی عرب اپنی ان روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اپنی اس روایت کو سیاحتی مقامات کے ہر گوشے میں زندہ و متحرک دیکھیں گے۔ یہ چیز ہمیں پرتعیش سیاحت کے دیگر آپریٹرز سے بھی نمایاں اور ممتاز کرتی ہے۔

کیونکہ سعودی عرب کے ہر مہمان کو یہاں آکر ایک شاہی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہاں ہر آنے والے ہر شخص کا ہر قدم سعودی ثقافت سے جڑنے لگتا ہے۔ جیسا کہ ہر سعودی محل میں ایک سعودی سلیبریٹی شیف ہوتا ہے۔ ایک ریستوران ہوتا ہے۔ یہ ریستوران اپنے انے علاقوں کی انتہائی پاکیزہ اثرات لیے ہوئے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

انھوں نے کہا ہمارے ہاں ہر ہوٹل میں ایک ایسا ریستوران بھی ہوگا جہاں آنے والے عالمی ماہرین سے سیکھ سکیں گے۔ جبکہ ریاض کے سرخ محل میں ہم ایک شاہی سورایوں پر مشتمل ایک ثقافتی ٹور کا بھی اہتمام کریں گے۔ یہاں شاہ سعد کے زمانے کی وینٹج کار میں ان کی زندگی سے متعلق آگاہی حاصل کرتے ہوئے مختلف ثقافتی مقامات کا سفر کر سکیں گے۔ تاریخی و ثقافتی نشانات کو آج کے جدید ہوٹلوں میں ڈھالا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں