کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) میں سعودی عرب کے مستقل مندوب زیاد العطیہ نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک وسیع تباہی کے تمام ہتھیاروں پر پابندی اور ان کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کا اٹل موقف رکھتا ہے۔ العطیہ نے عالمی سلامتی اور امن کی دیکھ بھال کے سلسلے میں 'او پی سی ڈبلیو' کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔
کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے سمجھوتے کے تمام احکامات پر مکمل اور فعّال عمل درآمد اسی تنظیم کی ذمے داری ہے۔
زیاد العطیہ نے سعودی عرب کے اس موقف کو دہرایا کہ کسی بھی جگہ ، کسی بھی حالات میں کسی بھی فرد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلے کیمیائی مواد کا بطور ہتھیار استعمال کرنا قابل ملامت عمل ہے۔ یہ مذکورہ سمجھوتے اور بین الاقوامی قانون کے ضابطوں کی قابل مذمت خلاف ورزی ہے۔
العطیہ نے جو ہالینڈ میں سعودی عرب کے سفیر بھی ہیں، اس جانب توجہ دلائی کہ 'او پی سی ڈبلیو' کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تنظیم میں موجود تمام میکانزم کو کام میں لایا جائے ، خواہ وہ کیمیائی مرکز ہو یا سائنسی مشاورتی کونسل وغیرہ تا کہ ان چیلنجوں سے نمٹا جا سکے اور سمجھوتے پر مؤثر صورت میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ العطیہ نے اس سلسلے میں 'او پی سی ڈبلیو' کی کوششوں کو سراہا۔
شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے سعودی سفیر نے کہا کہ ان کے ملک کا وفد 'او پی سی ڈبلیو' اور شام کے درمیان مشاورت کے 27 ویں دور کا خیر مقدم کرتا ہے۔
زیاد العطیہ نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی میں نو ماہ سے قابض اسرائیلی افواج کے جرائم کا سلسلہ خونی شکل میں جاری ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں خوف ناک جرائم کی پُر زور مذمت کی۔ ساتھ ہی غزہ میں فوری فائر بندی کے حوالے سے عالمی سلامتی کونسل کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جاری قرار دادوں پر عمل درآمد کی اہمیت کو باور کرایا۔
سعودی سفیر نے فلسطینی ریاست کی جانب سے تیکنیکی سکریٹریٹ کو پیش کی گئی درخواست کو خوش آئند قرار دیا جس میں فلسطین میں ہونے والے واقعات اور پیش رفت کا قریب سے جائزہ لینے کے لیے کہا گیا ہے۔ زیاد العطیہ نے اس حوالے سے سکریٹریٹ کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جوابی خط کو گراں قدر قرار دیا۔
سعودی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک برادر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حالیہ عرصے میں دوست ممالک (ناروے، ہسپانیہ، آئرلینڈ، سلووینیا اور آرمینیا) کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کے لیے سعودی عرب کے اس مطالبے کو دہرایا کہ 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ اس طرح برادر فلسطینی عوام اپنے قانونی حقوق حاصل کر سکیں گے اور ایک مستقل ، منصفانہ اور جامع امن یقینی بنایا جا سکے گا۔
-
سعودی عرب کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے صدر منتخب
بُدھ کے روز کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل نے مملکت سعودی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں امدادی کارروائیاں دو گنا کردیں
اردن نے اہالیان غزہ کے لیے امداد بھیجنے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی تعریف کی
بين الاقوامى -
غزہ جنگ کے بعد مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہوچکا: سعودی وزیرخارجہ
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ نے تنازعہ ...
مشرق وسطی