اسرائیلی وزیر کا عرب ارکان کو دہشت گرد قرار دے کر پارلیمنٹ سے نکل جانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی پارلیمنٹ میں بدھ کے روز ہونے والا اجلاس شام تک چلنے کے بعد اُس وقت شدید تناؤ کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا جب قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر نے دو عرب ارکان پارلیمنٹ احمد الطیبی اور ایمن عودہ کو دہشت گرد قرار دیا۔

بن غفیر نے خطاب کے دوران میں جب یہ بات کہی تو دونوں عرب ارکان غصے کی حالت میں ان کی ڈائس کے قریب پہنچ گئے۔ اس موقع پر لیکوڈ پارٹی کے ارکان نے دونوں کا راستہ روک لیا۔ اس موقع پر بن غفیر نے دونوں عرب ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے عربی زبان میں کہا "برة... برة" (باہر نکل جاؤ) .

یہ جملہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے پوسٹ کی گئی وڈیو میں 37 سیکنڈ کے بعد سنا جا سکتا ہے۔ اس وڈیو کو اسرائیلی ٹی ویi24News کی ویب سائٹ نے بھی پیش کیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے اجلاس میں متعدد وزراء نے شرکت کی۔ اجلاس میں حماس کے پاس موجود قیدیوں کی ڈیل کو زیر بحث لایا گیا تاہم مذکورہ وزراء اس حوالے سے متفق نہ ہوئے۔ انہوں نے بن غفیر پر اس ڈیل کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی الزام لگایا کہ وہ جنگ سے متعلق سیکورٹی فیصلوں کو سیاست کی نذر کر رہے ہیں۔

اسرائیلی ویب سائٹBhol.co.il کے مطابق بن غفیر پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران اپنی پٹری سے اتر گئے اور عرب ارکان کو پریشان کرنے لگے۔ جب ان میں سے دو عرب ارکان نے بن غفیر کا رخ کیا تو اسرائیلی وزیر نے چیخ کر کہا کہ "تمام دہشت گردوں کو نکال دو ، یہ سب دہشت گرد ہیں"۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے بن غفیر کے جملوں کو قابل اعتراض قرار دیا۔ تاہم بن غفیر اپنے موقف پر قائم رہے اور بولے کہ "یہ سب دہشت گرد ہیں.. کیا یہ فوجی اہل کاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں ؟ کیا یہ اغوا کاروں کی مذمت کرتے ہیں"؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں