کنگ سلمان گلوبل اکیڈمی نے عربی زبان کے فروغ میں ہندوستان کے کردار پر روشنی ڈالی
یہ اقدام وژن 2030 کے انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے پروگرام کے تحت کیا گیا ہے
سعودی مملکت کے اعلیٰ لسانی ادارے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تبادلوں کے تناظر میں ہندوستان عربی زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی ادارے نے ہندوستانی سکالرز اور شاگردوں کے لیے پروگراموں کے ایک سلسلے کا انعقاد کیا۔
ہندوستانی جامعات اور کالجز کے طلباء اور عربی کورسز پڑھانے والے لیکچررز کنگ سلمان گلوبل اکیڈمی فار عربی لینگوئج (کے ایس جی اے اے ایل) کے زیرِ اہتمام تربیتی سیشنز، ورکشاپس اور مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں جو عربی زبان کے مہینے کا حصہ ہیں۔
یہ پروگرام جون کے آخر میں آن لائن شروع ہوا اور 26 جولائی تک جاری رہے گا جس کا مقصد دنیا کے گنجان آباد ترین ملک میں غیر مقامی بولنے والوں کے لیے عربی کی تعلیم کو فروغ دینا اور بہتر بنانا ہے۔
مرکزی میزبان نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہے جو کئی عشروں سے عربی کی تعلیم دے رہی ہے۔
کے ایس جی اے اے ایل کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الواشمی نے جمعہ کو عرب نیوز کو بتایا، "ہندوستان عربی زبان کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے جو اس کے وسیع اور متنوع انسانی، لسانی اور ثقافتی منظر نامے میں عربی زبان سیکھنے کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہے۔"
نیز انہوں نے کہا، "ہندوستان کے متنوع کثیر لسانی منظرنامے کے باوجود تجارتی سرگرمیوں اور ثقافتی تبادلوں میں اضافے کے باعث عربی سیکھنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔"
کے ایس جی اے اے ایل سے وابستہ سعودی ماہرِ لسانیات کی قیادت میں ہندوستان میں عربی زبان کا مہینہ تعلیمی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے - مختلف تعلیمی اداروں میں عربی زبان کا تعلیمی نصاب بڑھانے کے لیے مقابلوں اور ورکشاپس سے لے کر اساتذہ کو جدید ترین تدریسی طریقہ کار سے واقف کروانے کے لیے خصوصی سیشنز تک۔
الواشمی نے کہا، "یہ سرگرمیاں ہندوستان بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں منعقد کی جاتی ہیں جن کا بنیادی مقصد ہندوستانی جامعات سے مضبوط تعلقات کو فروغ دینا ہے جو عربی پڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔"
مزید برآں عربی زبان کا مہینہ جدید طریقوں سے عربی زبان کو فروغ اور اس کی تعلیم دینے میں مملکت سعودی عرب کی کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ اقدام انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے پروگرام کے مقاصد پورے کرتا ہے جو مملکت کے وژن 2030 کا ایک اہم جزو ہے۔
عربی زبان کو برقرار رکھنا اور اسے فروغ دینا ویژن 2030 کی انقلابی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو مہارتوں اور تعلیمی اداروں کی ترقی پر بھی توجہ دیتی ہے۔
الواشمی نے کہا، "یہ پروگرام مقامی اور عالمی سطح پر عربی زبان کے اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے، بالخصوص غیر مقامی زبان بولنے والے کمیونٹیز میں۔"
انہوں نے مزید کہا، "ان اقدامات میں غیر مقامی زبان بولنے والوں کو عربی سکھانے کے لیے جدید سرگرمیوں کی حمایت کرنا، اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو بڑھانا اور لسانی صلاحیتوں کے حامل افراد کو دریافت کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے سائنسی مقابلوں کا انعقاد شامل ہے۔"
-
عالمی تکنیکی خرابی میں بھی سعودی ہیلتھ انفارمیشن سسٹم موثر طور پر کام کرتا رہا
سعودی وزارت صحت نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں صحت سے متعلق معلومات کے ...
مشرق وسطی -
58 ملین ریال کی لاگت سے شمالی سعودی عرب میں آبی منصوبوں پر کام کا آغاز
سعودی عرب کی نیشنل واٹر کمپنی کے شمالی سیکٹر نے شمالی سرحدی علاقے کے شہروں عرعر ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : الیکٹرک فلائنگ ٹیکسیوں کا خواب تعبیر پانے کے قریب
سعودی عرب میں شہردر شہر سفر میں تیزی اور سرعت لانے کے لیے اڑنے والی ' ٹیکسیوں ' ...
مشرق وسطی