سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر سعود المعجب نے باور کرایا ہے کہ مملکت حقوق کے تحفظ اور قانونی ضمانتوں کی مضبوطی کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ اس سلسلے میں نظام کو قانونی شکل دی گئی ہے جو متعلقہ جرائم کی روک تھام کرتا ہے۔ ان میں انسانی تجارت نمایاں ترین جرائم میں سے ہے۔
النائب العام يؤكد التزام #السعودية بحماية الحقوق وتعزيز مكافحة جرائم الاتجار بالأشخاص pic.twitter.com/4VbohJo2DJ
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 30, 2024
المعجب نے یہ بات انسانی تجارت کے انسداد کے عالمی دن کے حوالے سے خطاب میں کہی۔ انھوں نے واضح کیا کہ سعودی پراسیکیوشن نے اس سلسلے میں کئی اہم اقدامات پر عمل درآمد کیا ہے۔ ان میں انسانوں کی اسمگلنگ کے جرائم کی تحقیق کے لیے ایک خود مختار استغاثہ، متاثرہ افراد کو تحفظ کی یقینی فراہمی، ان جرائم میں شریک یا حصہ لینے والے افراد پر پابندیاں عائد کرنا اور سرحد پار ان جرائم کی روک تھام کے لیے مقامی اور بین الاقوامی تعاون شامل ہے۔
سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یہ کوششیں شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ ان دونوں شخصیات نے حکومتی اداروں کے درمیان تعاون اور متاثرین کی حفاظت کی اہلیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان اقدامات نے معاشرے میں انسانی تجارت کی سنگینی کے حوالے سے آگاہی بڑھانے اور اس جرم کا پھیلاؤ روکنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔