ایران اور اتحادیوں کا ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی پر غور

جوابی اقدام ممکنہ طور پر ایران اور اس کے اتحادیوں کی مشترکہ کوشش ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے ایک سینئر فوجی کمانڈر نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور اس کی اتحادی ملیشیا اس بارے میں غور کر رہی ہیں کہ تہران میں حماس کی سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ کیسے لیا جائے۔

ایران میں جمعرات کو نمازِ جنازہ منعقد کی گئی جو ہنیہ کے قتل کا انتقام لینے کے مطالبات سے گونج اٹھی۔ ہنیہ کو ایران کے نئے صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے چند گھنٹے بعد تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک حملے میں قتل کر دیا گیا۔ اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے۔

تہران میں ہنیہ کے جنازے کے دوران ایران کی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے کہا، "ہم اور محورِ مزاحمت کس طرح انتقام لیں گے، اس پر غور کیا جا رہا ہے۔"

"محورِ مزاحمت" جسے "مزاحمتی محاذ" بھی کہا جاتا ہے، علاقائی مزاحمتی گروپوں کا ایک نیٹ ورک ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور اس میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق اور شام میں مختلف ملیشیا اور یمن میں حوثی ملیشیا شامل ہیں۔

باقری نے کہا، اس قتل پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی "یقیناً ہو گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو اس کے اعمال پر "پشیمان" ہونا پڑے گا۔

ایران اور حماس نے اسرائیل پر قتل کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے لیکن اسرائیل نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو ایران کے اعلیٰ حکام کی لبنان، عراق اور یمن میں ایران کے علاقائی اتحادیوں کے نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے تاکہ ہنیہ کی ہلاکت پر اسرائیل کے خلاف ممکنہ انتقامی کارروائی پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز نے ایرانی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف براہِ راست حملے کا حکم دیا ہے۔

خامنہ ای نے بدھ کے روز انتقامی کارروائی کا عزم کرتے ہوئے کہا، ہنیہ کی موت کا انتقام لینا ایران کا فرض ہے کیونکہ یہ ایرانی سرزمین پر ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تہران براہِ راست جواب دے سکتا ہے جو ممکنہ طور پر اپریل میں اسرائیل پر اپنے حملے جیسے اقدام کو دہرا سکتا ہے جب ایران نے دمشق میں اپنے قونصل خانے پر مشتبہ اسرائیلی حملے کے جواب میں میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ ان میں سے تقریباً تمام کو روک لیا گیا تھا۔

لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ مکمل جنگ چھیڑنے میں ایران کی پس و پیش اس کی جوابی کارروائی کی حد کو محدود کر سکتی ہے۔

ہنیہ کے قتل کا واقعہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے اعلیٰ کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کرنے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا تو اس کے موقع محل کے پیشِ نظر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جوابی کارروائی ممکنہ طور پر ایران اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کی جانب سے ایک مربوط اور مشترکہ کوشش ہو گی۔

سرکاری میڈیا نے ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان کے حوالے سے کہا، "مزاحمت کے تمام محاذ ہنیہ کے خون کا بدلہ لیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں