جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے میں کم از کم دو ہلاک: وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ پیر کو ملک کے جنوب میں اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

گذشتہ ہفتے اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے فوجی سربراہ فواد شکر کے قتل کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کا ایران اور حزب اللہ سمیت اس کے حمایت یافتہ گروہوں نے بدلہ لینے کا عزم کیا ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا، "دشمن کے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے جو (میس الجبل کے) قصبے کے قبرستان کے قریب ہوا۔"

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ "آج صبح میس الجبل حملے کے دو شہداء میں سے ایک رسالہ سکاؤٹس کا نیم طبی عملہ تھا۔"

رسالہ سکاؤٹس جو حزب اللہ کی اتحادی جماعت تحریکِ امل سے وابستہ ہے، اس کے ایک ریسکیو کارکن علی عباس نے نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیم طبی عملے نے ایک سابقہ حملے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے لیے ایک اور شخص کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کیا تھا۔

عباس نے کہا، وہ "یہ دیکھنے کے لیے وہاں گیا کہ آیا وہاں عام شہری ہیں یا لوگ (علاقے میں) موجود تھے کہ فوراً ہی دوسرا حملہ ہو گیا۔"

اسرائیل کی سرحد سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع صفِ اول کے ایک گاؤں میس الجبل کو سرحد پار جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے شدید بمباری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر رہائشی وہاں سے جانے پر مجبور ہو گئے۔

پیر کو حزب اللہ نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی "حملوں اور ہلاکتوں" کے جواب میں "دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ڈرون" سے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ "لبنان سے شمالی اسرائیل میں داخل ہونے والے متعدد مشتبہ فضائی اہداف کی نشاندہی کی گئی" جس سے آگ لگ گئی اور ایک افسر اور ایک فوجی "معمولی زخمی" ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں