اخلاقی پولیس لڑکی کو گھسیٹ کر سڑک کے درمیان لے گئی، تہران سے ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

نو منتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اقتدار سنبھالے ایک ہفتہ سے زیادہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا کہ چند گھنٹوں کے دوران اخلاقی پولیس کے ارکان کی دو لڑکیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ایک چونکا دینے والی ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل گئی۔ اس ویڈیو کلپ کو بہت سے ایرانیوں کے ساتھ ساتھ مقامی ویب سائٹس اور میڈیا پر بھی پھیلا دیا گیا۔ ویڈیو کلپ دیکھ کر ان ایرانی نوجوانوں کے بڑے طبقے کو خاص طور پر صدمہ پہنچا جنہوں نے نئے اصلاح پسند صدر سے اپنی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔

ویڈیو بظاہر نگرانی کرنے والے کیمروں کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ ویڈیو میں دارالحکومت تہران کی ایک سڑک پر دو نوجوان لڑکیوں کو پیلے رنگ کے ایک چھوٹے سے پاور سٹیشن کے پیچھے کھڑے دکھایا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ خواتین دیکھتی اخلاق پولیس کے تین اہلکاروں نے نے ان دونوں نوجوان خواتین پر حملہ کر دیا۔

ان میں سے ایک نے اپنی قسمت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اپنی گرفتاری کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔ دوسری جس کا نام نفس حاج شریف تھا ضد پر اڑی رہی۔ پھر تینوں خواتین پولیس اہلکار اسے گھسیٹ کر پولیس کی گاڑی تک لے گئیں۔

نوجوان خاتون کی والدہ مریم عباسی نے ویب سائٹ "انصاف نیوز" کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی 14 سالہ بیٹی تہران کی ایک گلی میں بجلی کے کھمبے کے پیچھے اپنی سہیلی کے ساتھ کھڑی تھی کہ ایک گشتی پولیس آئی۔ تین خاتون پولیس اہلکار باہر نکلیں اور اس پر حملہ کر دیا۔

مارا پیٹا گیا

لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران سر ایک کھمبے سے ٹکرانے سے اس کی بیٹی زخمی ہوگئی اور اسے شدید مارا پیٹا گیا تھا۔ والدہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کی بیٹی کے ہونٹ سوجے ہوئے تھے۔ اس کی گردن پر زخم تھے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔

ماں نے کہا میں نے سوچا تھا کہ حجاب کے لازمی قوانین اس کی بیٹی پر لاگو نہیں ہوتے کیونکہ وہ ابھی چھوٹی ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے نے "نور پروجیکٹ" کے افسروں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ اس ویڈیو کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد تہران میں ملٹری پراسیکیوٹر نے اعلان کیا کہ جائے وقوعہ پر موجود افسران کو طلب کر کے خصوصی تفتیشی برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے ستمبر 2022 میں ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اس وقت شروع ہوگئے تھے جب مہسا امینی نام کی 20 سالہ خاتون کو اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا اور حراست کے دوران پولیس کے مبینہ تشدد سے اس کی موت ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں