سفارت خانے کے ایک بیان کے مطابق چین نے جمعرات کو لبنان میں مقیم اپنے شہریوں پر "جلد از جلد" وہاں سے نکل جانے پر زور دیا ہے۔ ملک میں اسرائیلی حملے میں ایک سینئر فلسطینی مزاحمت کار کی ہلاکت کے ایک دن بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بیروت میں چین کے سفارت خانے نے کہا، "حال ہی میں لبنان-اسرائیل سرحد پر حالات بدستور کشیدہ ہیں اور لبنان میں سکیورٹی کے حالات سنگین اور پیچیدہ ہیں۔"
نیز کہا گیا، "لبنان کے جنوبی اور نبطیہ گورنری میں سفر کرنے کے لیے خطرے کی موجودہ سطح سرخ ہے (انتہائی زیادہ خطرہ) اور دیگر علاقوں میں نارنجی (زیادہ خطرہ) ہے۔"
بیان میں لبنان میں چینی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ "اس موقع سے فائدہ اٹھائیں جبکہ چین واپس جانے یا جلد از جلد ملک چھوڑنے کے لیے تجارتی پروازیں ابھی چل رہی ہیں۔"
بدھ کو لبنان میں اسرائیلی حملے میں خلیل المقدہ ہلاک ہو گئے جنہیں فلسطینی تحریک الفتح نے ملک میں اپنے مسلح ونگ کے "رہنماؤں میں سے ایک" قرار دیا۔
اس حملے کے نتیجے میں الفتح نے الزام لگایا کہ اسرائیل علاقائی جنگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ واقعہ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے شرقِ اوسط کا دورہ ختم کرنے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔ اس دورے کا مقصد غزہ جنگ بندی تک پہنچنا تھا۔
المقدہ کی ہلاکت پہلا واقعہ ہے جب اسرائیل نے غزہ جنگ کے دوران لبنانی مزاحمت کاروں کے ساتھ سرحد پار جھڑپوں کے 10 ماہ سے زیادہ عرصے میں فتح کے ایک سینئر رکن کو نشانہ بنایا ہے۔
اس ماہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں حزب اللہ مقیم ہے۔
اس ماہ کے شروع میں چین نے اپنے شہریوں سے "احتیاط سے سفر" کرنے کا تقاضہ کیا تھا جس کے بعد چینی سفارتخانے کا جمعرات کا بیان عجلت کی عکاسی کرتا ہے۔