ایک اسرائیلی یرغمالی جنہیں سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے دوران اغوا کیا اور آٹھ ماہ تک قید میں رکھا گیا، انہوں نے اُن میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ فلسطینی مسلح تنظیم نے انہیں قید میں تشدد کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے نوآ ارگمانی نے کہا کہ حماس کے مزاحمت کاروں کے انہیں مارنے اور گھائو لگانے کی مختلف اطلاعات غلط ہیں اور ان کے الفاظ کو "سیاق و سباق سے ہٹ کر" بیان کیا گیا۔
ارگمانی کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس عمارت پر اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں چوٹیں آئیں جس میں انہیں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے مبینہ طور پر ایک انسٹاگرام سٹوری میں عبرانی میں لکھا، "میں اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں میڈیا میں کیا ہوتا رہا ہے؛ چیزیں سیاق و سباق سے ہٹ کر (بیان کی گئی) ہیں۔"
اس میں کہا گیا، "انہوں [حماس] نے مجھے نہیں مارا اور میرے بال نہیں کاٹے۔ میں ایک عمارت میں تھی جسے اسرائیلی فضائیہ نے اڑا دیا تھا۔"
"سات اکتوبر کے حملے کی متأثرہ ہونے کے ناطے میں خود کو دوبارہ میڈیا کے ہاتھوں متأثرہ نہیں ہونے دوں گی۔"
ارگمانی اور ان کے دوست ایویناتن اور کو 2023 میں نووا میوزک فیسٹیول پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ ان کا دوست بدستور قید میں ہے۔
ان کے اغوا کی فوٹیج کا وسیع پیمانے پر اشتراک کیا گیا اور یہ 250 اسیران کی واپسی کا مطالبہ کرنے والی تحریک کی علامت بن گئی۔
ارگمانی کے تبصرے ان کے دورۂ جاپان کے دوران رپورٹ ہوئے جہاں انہوں نے جی سیون گروپ کے سینئر ارکان اور اسرائیلی سفارت کاروں سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا، "ہر رات میں سوتی اور سوچتی تھی، ہو سکتا ہے یہ میری زندگی کی آخری رات ہو۔"
26 سالہ نوجوان خاتون نے کہا، "اور جب مجھے بچایا گیا، اس لمحے تک مجھے یقین نہیں تھا کہ میں بدستور زندہ تھی۔
انہوں نے کہا، "اور اس لمحے میں جبکہ میں اب بھی آپ کے ساتھ بیٹھی ہوں، یہ ایک معجزہ ہے کہ میں یہاں ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہ ایک معجزہ ہے کیونکہ میں سات اکتوبر کو بچ گئی اور میں اس بمباری سے بچ گئی اور ریسکیو کی کارروائی میں بھی بچ گئی۔"
انہوں نے قید میں اپنے حالاتِ زندگی بیان کیے جن میں ایک سے دوسری جگہ جانا اور سرنگوں سے گذرنا بھی شامل تھا۔ خوراک اور پانی کی مبینہ طور پر کمی تھی۔
اسرائیل نے محصور علاقے میں خوراک اور امداد کے داخلے پر سخت پابندی لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے وہاں غذائی قلت اور اس کی لاکھوں کی آبادی میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں 40,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
-
غزہ سے ملنے والی یرغمالیوں کی لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں: اسرائیل
چھے یرغمالی اسرائیلی فوج کی خان یونس میں کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے: فوجی ترجمان
مشرق وسطی -
اسرائیل غزہ کی سرنگوں سے یرغمالیوں کی لاشیں کس طرح واپس لاتا ہے ؟
اسرائیلی فوج کے انجینئروں نے غزہ پٹی کے علاقے خان یونس میں 650 فٹ طویل ایک سرنگ کے ...
مشرق وسطی -
فوجی کارروائی سے یرغمالیوں کی بازیابی ناممکن ہے: اسرائیلی فوج کا اعتراف
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران فوجی کارروائیوں سے یرغمال ...
مشرق وسطی