غزہ کے لیے سعودی عرب کے 185 ملین ڈالر سے زیادہ کے عطیات

سوڈان کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے مملکت کے موقف کی سعودی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے اپنے ملک کی طرف سے اسرائیلی قابض افواج کے فلسطینی عوام کے خلاف ہر قسم کے جرائم کی مذمت اور اسے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قابض افواج بین الاقوامی قراردادوں اور قوانین کی پرواہ نہیں کر رہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف ہر قسم کے جرائم کی مذمت کی جارہی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے دسیوں ہزار فلسطینیوں کی جانیں لی ہیں۔ شہید ہونے والے فلسطینیوں میں زیادہ تر خواتین، بچے اور معصوم شہری شامل ہیں۔ بین الاقوامی احتساب کی عدم موجودگی اور سلامتی کونسل کی جانب سے روک تھام میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیلی جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اب بھی غزہ کی پٹی میں عام شہریوں کو ریلیف امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے ریلیف کی مقبول مہم کے ذریعے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف سینٹر نے فی الحال 185 ملین ڈالر سے زیادہ کے عطیات غزہ کے لیے فراہم کیے ہیں۔

سعودی عرب نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے برادر ممالک کے ساتھ وزارتی کمیٹی کی سربراہی کے دوران ریاض میں غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس منعقد کرایا۔ اس اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا گیا۔

یہ بات نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی کی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے پچاسویں اجلاس میں شرکت کے دوران ہوئی۔ یہ اجلاس کیمرون کے شہر یاؤنڈے میں منعقد ہوا۔

سوڈان کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی نائب وزیر خارجہ نے سوڈان کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے بارے میں مملکت کے ٹھوس مؤقف کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے سوڈانی بحران کے فریقین پر بات چیت کی طرف واپس آنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے سے ہی سوڈان کو مزید مشکلات سے بچایا جاسکتا ہے۔

یمن کے مسئلے کے بارے میں انہوں نے یمن میں بحران کے حل کے لیے کوششوں کے لیے اپنے ملک کی حکومت کی مسلسل حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے یمن میں امن کی بحالی اور سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے بھرپور کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا جنگ کے خاتمے اور ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سعودی عرب کی کوشش جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں