غزہ کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا عمل شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے اس اعلان کے بعد کہ اسرائیل نے تقریباً 11 ماہ سے جاری جنگ کے باوجود غزہ میں بچوں کو قطرے پلانے کی اجازت دینے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ پر رضامندی ظاہر کردی ہے، پہلی ویکسی نیشن مہم شروع کردی گئی۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کہ چار روزہ مہم کا پہلا مرحلہ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں شروع کیا گیا۔ اس کے بعد خان یونس، غزہ سٹی اور پھر شمالی غزہ کی پٹی میں بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حملوں اور بم دھماکوں کی شدت میں کمی سے ویکسینیشن کی مہم جاری رہے گی۔ ہفتہ کے روز صورت حال نسبتاً پرسکون رہی۔ اس کے نتیجے میں غزہ میں وزارت صحت میں پرائمری ہیلتھ کیئر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر موسیٰ عابد نے کہا کہ وزارت کی ٹیموں نے اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے آج سے وسطی علاقے میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

پولیو کا پہلا کیس

فلسطینی علاقوں میں 25 سال کے بعد پہلی مرتبہ غزہ میں پولیو کے پہلے کیس کی تصدیق دیر البلح میں دس ماہ کے بچے میں ہوئی تھی۔ جون کے آخر میں خان یونس میں جمع کیے گئے پانی کے نمونوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے 1.2 ملین خوراکیں بھیجی ہیں۔ ویکسی نیشن قطروں کی شکل میں ہے انجکشن کی صورت میں نہیں ہے۔

فلسطینی بچہ عبدالرحمن ابو الجدیان، 25 سال میں غزہ میں پولیو سے متاثرہ پہلا شخص، دیر البلاح میں اپنے خیمے میں – رائٹرز
فلسطینی بچہ عبدالرحمن ابو الجدیان، 25 سال میں غزہ میں پولیو سے متاثرہ پہلا شخص، دیر البلاح میں اپنے خیمے میں – رائٹرز

یادرہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے پولیو کے خلاف اس ویکسینیشن مہم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے غزہ کی پٹی کے مرکز، جنوبی اور شمال میں تین دن تک جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ انسداد پولو مہم کے دوران 6 لاکھ 40 ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں