اسرائیلی فوج کے زیر حراست لیا گیا فلسطینی چند گھنٹوں بعد جاں بحق ہو گیا ۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے علاقے سے محض چند گھنٹے قبل گرفتار کیے گئے فلسطینی کو تشدد سے قتل کر دیا گیا۔ اسے پیر کے روز ہی گرفتار کیا گیا تھا ۔ مگر ہلاکت گرفتاری کے اگلے چند گھنٹوں کے دوران ہو گئی۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینی وزارت صحت کو اس فلسطینی کی لاش حوالے کر دی ہے۔ خیال رہے یہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی فوج کے چھ دن سے جاری جنگی آپریشن کا تسلسل ہے۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق یہ لاش ایک 58 سالہ فلسطینی شہری کی ہے۔ 58سالہ فلسطینی کانام ایمن راجع عابد ہے، جو جنین کے کفر ڈین نامی گاؤں کے رہنے والےتھے۔ یہ گاوں جنین سے متصل واقع ہے۔ ایمن عابد کو پیر کے روز صبح سویرے گرفتار کیا گیا تھا۔
ویسام بکر ہسپتال جنین کے ڈائریکٹر نے ایمن عابد کی لاش کے بارے میں کہا ہے کہ جسم پر تشدد کے نشان ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ گرفتاری انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کی گئی تھی تاہم ڈیتھ کی وجہ دل کا دورہ بنا ہے۔ جنین میں ہسپتال تک لانے سے پہلے فوجی ڈاکٹروں نے بھی اس کا علاج کیا تھا۔
واضح رہے اسرائیلی فوج نے جنین کے ساتھ جڑے ایمن عابد کے گاؤں تک اپنے آپریشن کا دائرہ پھیلا رکھا ہے۔ اسرائیلی بلڈوزر کہیں فلسطینیوں کے گھر تباہ کرنے کے لیے اور کسی جگی گلیاں کو اکھاڑ اکھاڑ کر یہ جائزہ لینے میں لگے ہیں کہ گلیوں میں بم تو نہیں چھپا رکھے گئے ہیں۔
اسرائیل کا کہناکہ فوج نے زمین میں چھپایا گیا اسلحہ تلاش کیا ہے۔ اس میں تقریباً 30 دھماکہ خیز آلات تھے۔
یاد رہے اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز سے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ مجموعی طور پر 29 فلسطینی جاں بحق اور 121 زکمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج ان جنگی کارروائیوں میں ڈرون طیاروں کی مدد کے ساتھ موجود ہے۔ مغربی کنارے کے گلی محلوں میں ڈرون استعمال کیے جا رہے ہیں۔