اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رکھا اور ڈپٹی ڈائریکٹر شہری دفاع اور غزہ میں ہنگامی خدمات کے ذمہ دار محمد مرسی کو بمباری سے نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا ہے۔
بمباری کا یہ سلسلہ غزہ کی پٹی کے شمالی حصوں میں اتوار کے روز جاری رہا۔ جہاں پر محمد مرسی کے چار اہلخانہ بھی اس بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت نے اس ٹارگٹڈ بمباری کی تصدیق کی ہے۔
غزہ کے شہری دفاع کے محکمے کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق محمد مرسی کی اس ہلاکت کے بعد شہری دفاع کے مجموعی طور پر 83 اہلکار اسرائیلی بمباری کی زد میں آکر ہلاک ہو چکے ہیں۔
شہری دفاع کا یہ شعبہ ریسکیو اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی زمہ داریوں سے منسلک ہے۔ جسے اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کے بعد مسلسل نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اب تک 83 اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے غزہ شہر کے مضافاتی علاقے زیتون میں متعدد گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ یہ علاقہ جبالیہ سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ طبی عملے کے مطابق ہمیں لوگوں کی کالز موصول ہو رہی ہیں کہ ہم گھروں میں بند ہیں اور زخمی حالت میں ہیں لیکن ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک رہائشی نے کہا ہم مستقل بمباری کی آوازیں سن رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج گھروں کو مسمار کر رہی ہے۔ بمباری کی آوازوں سے کوئی سو بھی نہیں سکتا۔
مقامی شہری نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتایا ہم ڈرون طیاروں کو دیکھ رہے ہیں جو بمباری کر رہے ہیں۔ ہم خوفزدہ ہیں اور پریشان ہیں کیونکہ لوگ اس بمباری کے گھیرے میں ہیں۔
دریں اثناء اتوار کے روز اقوام متحدہ کے تعاون سے مقامی وزارت صحت نے پولیو کے انسداد کے لیے اپنی مہم میں ایک دن کا اضافہ کر دیا ہے۔ تاکہ جنوبی غزہ میں پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔
پیر کے روز پولیو کی یہ مہم جنوبی غزہ سے شمالی غزہ کی طرف منتقل کر دی جائے گی۔ پولیو مہم کے نتیجے میں 640000 بچوں کو قطرے پلائے جانے ہیں۔
یہ مہم 25 برسوں کے بعد ایک پولیو کا کیس سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ پہلے دو مراحل میں 50 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ جبکہ دوسرا مرحلہ چار ہفتوں پر مشتمل ہوگا۔ وہ اس پہلے مرحلے کے بعد شروع ہوگا۔
تاہم اس دوران اسرائیلی فوج انسدادِ پولیو مہم کے ساتھ ساتھ بمباری کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے۔ جس کے نتیجے میں اب تک 40900 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 23 لاکھ کے قریب آبادی بھوک اور بےگھری کا شکار ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف اس صورتحال کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتی ہے۔ جبکہ اسرائیل اس سے انکار کرتی ہے۔
-
فلسطینی فوٹوگرافر نے غزہ میں جنگی کوریج کا ایوارڈ جیت لیا
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کے نمائندہ فلسطینی فوٹوگرافر نے غزہ میں ...
مشرق وسطی -
غزہ جنگ اسرائیلی معیشت کے کس بل نکال دیے،بھاری معاشی خسارہ، مہنگائی میں اضافہ
اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں جاری حالیہ جنگ کے دوران بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے، ...
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ کے تفتیش کار کا اسرائیل پر غزہ میں 'فاقوں کی مہم' چلانے کا الزام
شدید بین الاقوامی دباؤ کے باعث اسرائیل نے محدود غذائی رسد کی اجازت دی
مشرق وسطی