غزہ جنگ کے بارے میں نیتن یاہو کا 'ہرمجدون' والا طرزِ عمل:اولمرٹ کی جانب سے تنقید
نیتن یاہو اس لیے جنگ بندی نہیں چاہتے کیونکہ یہ ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے: اولمرٹ
غزہ میں جاری اسرائیل کی جنگ نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے اور کئی اسرائیلیوں نے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ طے کرنے میں ناکامی اور غزہ تنازعہ کے بارے میں ان کی حکومت کے طرزِ عمل کے خلاف احتجاج کیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بہت زیادہ ہوئیں اور اسرائیلی یرغمالیوں کو بہت کم تعداد میں بچایا گیا۔
اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ کے مطابق نیتن یاہو کا جنگ سے نمٹنے کا طریقہ اسرائیل کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے "ہرمجدون" کے منظر نامے کی طرف لے جا رہا ہے۔ (بائبل کے مطابق ہرمجدون ایک آخری معرکۂ خیر و شر ہو گا جو وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بنے گا۔)
روزانا لاک ووڈ کے ساتھ العربیہ کے جی این ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے اولمرٹ نے کہا، "ہم جتنی دیر [جنگ] جاری رکھیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ہم کئی یرغمالیوں کو کھو دیں گے۔ اور بدقسمتی سے اب ہمیں تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔۔ میرے خیال میں یہ مکمل طور پر ناکامی ہے، اسرائیلی حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی، کوئی سیاسی نظریہ، کوئی فوجی مقصد، کچھ بھی نہیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "وہ یہ چاہتے ہیں - ہرمجدون۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ہرمجدون کے لائحہ عمل کے اندر، جامع اور پرتشدد مشاورت سے وہ مغربی کنارے میں یونینوں کو ختم کرنے اور حتمی نتیجہ حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے؛ یعنی اسرائیل کی ریاست میں علاقوں کا مکمل معینہ مقام۔"
نیتن یاہو کی مقبولیت میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیزی سے کمی آئی ہے۔ 60 فیصد سے زیادہ اسرائیلیوں کہتے ہیں کہ انہیں اگلے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے جبکہ ان کے مقابلے میں صرف 22 فیصد نے کہا ہے کہ انہیں دوبارہ وزیرِ اعظم بننے کے لئے انتخاب لڑنا چاہئے۔
اولمرٹ نے کہا، بڑھتا ہوا عدم اطمینان بالآخر حکومت کی تبدیلی پر منتج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، جنگ بندی معاہدہ طے کرنے میں نیتن یاہو کی پس و پیش کی یہ وجہ سے ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو تنازعے کے خاتمے پر ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا عدم اعتماد اس حد تک پھیل جائے گا جہاں اسے جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔"
نیز انہوں نے کہا، "نتن یاہو کے یہ معاہدہ نہ کرنے کی وجہ بہت سادہ ہے، اگر کوئی معاہدہ ہو جائے تو حکومت نہیں رہے گی اور اس لیے انہیں حکومت پر اپنے مسلسل کنٹرول یا کسی معاہدے میں سے کویی ایک انتخاب کرنا ہو گا جس سے یرغمالی بچ جائیں اور فوجی کارروائی ختم ہو جائے۔"
اولمرٹ نے موجودہ اسرائیلی حکومت پر مزید الزام لگایا کہ وہ جاری تنازعہ پر بیرونی آوازوں اور ماہرین کی آراء کو نظر انداز کر رہی ہے اور اس کے بجائے انتہائی نوعیت کی بیان بازی اور انفرادی سیاسی مفادات پر توجہ دے رہی ہے۔ سابق اسرائیلی رہنما نے اسرائیل کی قیادت میں تبدیلی اور نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا، "[اسرائیلی رہنما] اسرائیل کے مرکزی دھارے اور ان بنیادی اساسی اقدار سے مکمل طور پر الگ ہو چکے ہیں جو اسرائیل کی ریاست کی کئی نسلوں سے خصوصیت ہیں۔"
نیز انہوں نے کہا، "ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امن اور تمام متأثرہ فریقوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے، نہ کہ وہ جس کی بنیاد انتہائی نوعیت کی بیان بازی اور ذاتی سیاسی مفادات پر ہو۔"