غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے ہر طرح کے ایندھن کی آمد پر بھی پابندی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے غزہ کے فلسطینیوں نے پلاسٹک کو جلا کر بطور ایندھن استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ انسانی صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے اس کا کسی کو اندازہ نہیں ہے۔
16 سالہ مصطفیٰ مصلح نے کہا ٹوٹا پھوٹا پلاسٹک اور اس کے ٹکڑے اکٹھا کرنے کے لیے ہم کافی پیدل چلتے ہیں۔ یہ پلاسٹک ملبے کے نیچے دبی ہوئی چیزوں میں سے ڈھونڈتے ہیں۔ اس دوران یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ منہدم عمارتوں کا ملبہ گر نہ جائے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کا خطرہ بھی منڈلاتا رہتا ہے۔
مصطفیٰ نے اپنے ہاتھوں میں پلاسٹک کے ٹکڑے پکڑے ہوئے تھے جو اس نے 13 گھنٹوں کی مسلسل محنت کے بعد جمع کیے تھے۔ محمود مصلح بھی ان فلسطینیوں میں شامل ہے جو ملبے میں سے کارآمد چیزوں کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر ان کو چھوٹے حصوں میں کاٹتے ہیں۔ تاکہ ملبہ کا ڈھیر بنی عمارتوں میں بنائے گئے عارضی تندور میں ان کو جلایا جائے۔
35 سالہ غزان نے کہا 'ایندھن نہ ملنے کی وجہ سے ہم نے پلاسٹک کو جمع کرنا شروع کیا۔ تاکہ اس کو بطور ایندھن استعمال کر سکیں۔
-
غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ایک ہی روز ’انروا‘ کے چھ ملازمین ہلاک
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ نے بدھ کی ...
مشرق وسطی -
غزہ : بے گھر افراد کی پناہ کے مرکز اسکول پر بم باری ، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی
اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی وزیر کے ہاتھ میں "غزہ کے بن لادن" کے بچوں کی تصویر پر شکوک کا اظہار
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے حماس کے سربراہ یحیی السنوار کے بچوں کی ایک تصویر ...
بين الاقوامى