اسرائیلی فوج نے رابطہ کاری کے باوجود غزہ کے اسی سکول کو نشانہ بنایا: ترجمان انروا

"غزہ میں فرار کے لیے کوئی جگہ نہیں۔"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (انروا) کے ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایجنسی کے ساتھ مسلسل رابطہ کاری کے باوجود اسرائیلی فوج اسی سکول کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بدھ کے روز وسطی غزہ میں نصیرات میں الجاونی سکول پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا جس کے بارے میں علاقے کی شہری دفاع کی ایجنسی نے اطلاع دی کہ اقوامِ متحدہ کے عملے سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے۔

ڈبلیو نیوز پر روزانا لاک ووڈ کے پیش کردہ ایک انٹرویو میں ترجمان عدنان ابو حسنہ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ اسرائیلی فوج نے اس مخصوص سکول کو نشانہ بنایا حالانکہ یو این آر ڈبلیو اے (انروا) مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔

انہوں نے العربیہ نیوز کو بتایا، "تمام معلومات روزانہ دو بار اسرائیلی فوج کو بھیجی جا رہی ہیں۔"

ترجمان انروا نے کہا کہ اس سے قبل چار بار سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق ان کی تنظیم سکول چلا رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملے کے ہلاک شدگان میں سے چھے ان کے ساتھی تھے۔

پناہ گاہ میں تبدیل شدہ سکول ایک ٹیم کے زیرِ انتظام ہے جو پورے غزہ کی پٹی سے 12,000 بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرتا ہے۔ ابو حسنہ نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ پناہ گاہ کی انتظامیہ کا نگران جو جنگ سے پہلے ہیڈ ٹیچر ہوا کرتا تھا، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

انروا عملے کے پانچ دیگر ارکان ہلاک ہو گئے۔ جن میں سے تین مینیجر کی مدد کر رہے تھے اور باقی پناہ گاہ میں پناہ گزین تھے۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے کیونکہ (اسرائیلی فوج کے) اہداف اور گولہ باری اور فائرنگ، یہ ہر جگہ ہے۔ اور آپ کسی بھی لمحے ہلاک ہو سکتے ہیں۔"

غزہ میں فرار کے لیے کوئی جگہ نہیں

ترجمان نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی امید رکھتے ہیں کیونکہ غزہ کے باشندوں کے لیے بنیادی طور پر کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

ابو حسنہ نے کہا، "ہمیں امید رکھنی چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ بندی ہوگی۔ یہ واقعی جہنم (بن چکا) ہے۔ کوئی جگہ نہیں ہے۔ غزہ میں فرار کے لیے کوئی جگہ نہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں