خلائی تحقیق کے لیے سعودی عرب اور برازیل کےدرمیان اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اور برازیل کے درمیان خلائی تحقیق کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ طے پایا ہے۔

معاہدے میں سعودی خلائی ایجنسی نے مملکت کی طرف سے نمائندگی کی اور برازیل کی خلائی ایجنسی نے اپنے ملک کی طرف سےنمائندگی کی۔ اس معاہدے کا مقصد نے پرامن مقاصد کے لیے خلا کے بارے میں ریسرچ اور خلائی تحقیق کے شعبے میں تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ معاہدہ خلائی ایجنسی کی پانچویں اسپیس اکانومی لیڈرز میٹنگ SELM) )میں شرکت کےموقعے پر طے پایا۔ اس اجلاس کی میزبانی برازیل کے شہر فوز ڈو ایگواؤ نے 11 سے 13 ستمبر کے دوران کی ۔ اجلاس میں G20 ممالک اور خلائی شعبے میں کام کرنے والی بڑی برازیلی کمپنیوں کے صدور اور سی ای او نے شرکت کی۔

سعودی خلائی ایجنسی نےزور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ ولی عہد اور وزیر اعظم اور سپریم اسپیس کونسل کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خلائی شعبے کی حمایت، اسے بااختیار بنانے اوراسے خلائی معیشت میں دنیا کی قیادت کرنے کے سعودی عرب کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا حجم 2035ء تک تقریباً دو ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔

اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے میں بیرونی خلا میں تعاون کے وسیع شعبے شامل ہیں۔ ان میں خلائی سائنس، ریموٹ سینسنگ اور خلائی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز میں بنیادی تحقیق، خلا اور موسم کی نگرانی کے علاوہ دیگر متعلقہ پہلو شامل ہیں۔ خاص طور پر خلائی نظاموں کے لیے مصنوعی سیاروں اور زمینی ڈھانچے میں تحقیق اور ترقی کا شعبہ شامل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی خلائی ایجنسی علاقائی اور عالمی سطح پر خلائی شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو گہرا کرنے کی مسلسل کوشش کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں