جنوبی لبنان کے دیہات خالی ہو چکے ہیں، 1.13 لاکھ بے گھر افراد واپسی سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سات اکتوبر کو غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل بم باری کے نتیجے میں سرحدی دیہات سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں لبنانی شہری ابھی تک اپنے گھروں کو واپسی یہاں تک کہ روزی کے حصول سے بھی محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام رابطہ کار دفتر برائے انسانی امور کی نئی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ 6 ستمبر تک لبنان کے سرحدی جنوبی دیہات سے 1.13 لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ 8 اگست تک یہ تعداد 1.02 لاکھ تھی۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے 25 اگست کو عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ "معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں" جس کا مطلب بے گھر افراد کی اپنے دیہات واپسی سمجھا گیا تاہم کسی نے بھی اس پر عمل نہیں کیا بلکہ ان افراد کی تعداد میں گذشتہ دو مہینوں میں اضافہ ہوا ہے۔

لبنان کے سرحدی قصبے کفر کلا کے ایک باشندے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس کا قصبہ تقریبا خالی ہو چکا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں کفر کلا میں 1500 رہائشی یونٹوں میں سے 500 سے زیادہ یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔

ایک اور شخص کے مطابق علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے اور جنگ کے حتمی طور پر ختم ہونے سے پہلے وہاں واپسی ممکن نہیں۔

البتہ میس الجبل اور العدیشہ کے قصبوں میں متعدد کاروباری افراد عارضی طور پر واپس لوٹ آئے تا کہ گوداموں سے اپنا سامان منتقل کر سکیں۔ ایسا لبنانی فوج اور بین الاقوامی فوج کے ساتھ رابطہ کاری سے ہوا۔

لبنان کے سرحدی دیہات اور قصبوں میں تباہی کا حجم بہت بڑا ہے۔ یہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت سرحد سے نسبتا دور واقع علاقوں کا رخ کر چکی ہے۔ سرحدی پٹی پر امن و استحکام سے قبل یہ افراد واپسی کے خواہش مند نہیں ہیں۔

گذشتہ برس آٹھ اکتوبر سے حزب اللہ تقریبا روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ مقابلے کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ملک کے جنوب میں یہ محاذ کھولنے سے قبل حزب اللہ نے لبنانی حکومت یا پارلیمنٹ سے رجوع کی بھی زحمت نہیں کیا۔

اس کے نتیجے میں تنظیم کے مخالفین کو اس پر تنقید کا موقع مل گیا۔ انھوں نے جنوبی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورت حال اور سرحدی دیہات سے آبادی کی نقل مکانی کا ذمے دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں اب تک لبنان میں کم از کم 610 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں حزب اللہ کے 394 ارکان اور 135 شہری شامل ہیں۔

اس کے مقابل اسرائیل میں حکام کے مطابق کم از کم 24 فوجی اور 26 شہری مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں