بیروت پر حملے میں حزب اللہ رہنما کو نشانہ بنایا گیا، علی کرکی خیرت سے ہیں: گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت میں حزب اللہ کے ایک سرکردہ عہدیدار کو نشانہ بناتے ہوئے ٹارگٹڈ حملہ کیا گیا۔ تاہم لبنانی گروپ نے اعلان کیا کہ جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی کو نشانہ بنایا گیا لیکن وہ خیریت سے ہیں۔ حزب اللہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ علی کرکی بالکل ٹھیک اور مکمل صحت مند ہیں۔ وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ علی کرکی کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اشارہ کیا کہ جنوبی محاذ کا کمانڈر اور حزب اللہ کے تیسرے بڑے رہنما علی کرکی مطلوبہ ہدف تھے۔

علی کرکی کو پارٹی میں اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر سمجھا جاتا ہے ۔ حسن نصراللہ نے فواد شکر کے بعد ان کا تقرر کیا تھا۔ فواد شکر 30 جولائی کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ علی کرکی لبنانی جماعت کے جنوبی محاذ کے رہنما تھے اور تل ابیب نے اس سال فروری میں النبطیہ شہر میں ایک کار کو بم سے اڑا کر ان کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نشانہ بننے والی کار میں نہیں تھے۔

العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی بیروت پر اسرائیلی حملے کا نشانہ تھے اور انہیں فواد شکر اور ابراہیم عقیل کے بعد عسکری طور پر تیسرا بڑا رہنما سمجھا جاتا ہے۔ پہلے دونوں رہنماؤں کو اسرائیل حالیہ جنگ کے دوران قتل کر چکا ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ علی کرکی زخمی ہیں۔ مضافاتی علاقے پر ہونے والے حملے میں گنجان آباد محلے ’’ماضی‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ پیر کی صبح سے جنوبی اور مشرقی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 492 ہو گئی اور 1,645 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں