اسرائیل کی دو محاذوں پر جنگ ، آنے والے دن زیادہ خطرناک ہوں گے: یاہو اور گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اپنے گردو پیش میں بمباری کا سلسلہ بد ترین انداز میں تیز کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید مشکلات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یہ انتباہ نیتن یاہو اور یوو گیلانت دونوں کی طرف سے ان دون سامنے آیا ہے۔ جب ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ نے بھی اسرائیل کی جانب سینکڑوں راکٹ پچھلے چند دنوں میں فائر کیے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ترجمان شوشانی کے مطابق پچھلے ہفتے کے دوران حزب اللہ نے 700 سے زائد میزائل اسرائیلی حدود میں فائر کیے ہیں۔جس سے بہت زیادہ گھروں اور ابادیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

مقامی اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے داغے گئے میزائلوں سے کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں مگر ہنگامی ضرورتوں کے تحت ہسپتالوں اور دیگر شعبوں نے بھر پور منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ البتہ یہ منصوبہ بندی ہونے کے باوجود ہر اسرائیلی شہری شدید ذہنی دباو میں ہے۔

ایک 47 سالہ اسرائیلی ہیلتھ ورکر نے کہا ' میں سخت دباؤ میں ہوں۔میرے پاس ایک زخمی فوجی ہے وہ بہت تناؤ کا شکار ہے میں اس کے لیے بھی پریشان ہوں۔'

اس ہیلتھ ورکر نے مزید کہا ' میں اس لیے بھی پریشان ہوں کہ میں بہت سے لوگوں کو پرہشانی میں دیکھ رہا ہوں ، جیسا کہ میرا اپنا خاندان سخت دباؤ میں ہے۔ سبھی لوگ صورت حال کی وجہ سے خوفدہ ہیں۔ یہ ایک مشکل صورت حال ہے اس کا سامنا کرنا آسان نہیں ہے۔'

اسرائیل کے شمالی علاقے میں پریشانی کی یہ فضا اور زیادہ ہے۔ پورے شمالی اسرائیل میں ہر شہری حزب اللہ کے داغے گئے میزائلوں سے نکلنے والے دھویں کی لکیروں کو ہی دیکھ دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔

پیر کے روز بجنے والے سائرن اس خوفزدگی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ سائرن بجنے کا یہ سلسلہ منگل کے روز بھی خوفناکی میں اضافہ کرتا رہا۔ البتہ اسرائیل کی سب سے اہم صنعتی بندر گاہ حیفا نے ان راکٹوں کے درمیان بھی اپنا کام جاری رکھا۔ تاکہ جنگی حالات میں بھی معیشت چلتی رہے۔

مگراسرائیلی شہری دفاع کے حکام کی ہدایت پر اسرائیل کے سکول پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ شہری دفاع حکام نے سائرن بجتے ہی پناہی بلوں میں گھس جانے کی ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں۔ تاکہ جانی نقصان سے بچ سکیں۔

ایک 76 سالہ اسرائیلی نے کہا ' میں تو شروع سے ہی دیکھتا آرہا ہوں ۔ ایسا ہی ہے ۔ ہر پانچ دس سال یا پندرہ سال بعد جنگی صورت حال میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح سائرن بجتے ہیں ۔ لوگ پناہ گاہوں میں چھپتے ہیں اور پھر چھپتے ۔ پھر باہر آجاتے ہیں پھر چھپ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے یہاں۔ ' گویا اسرائیل میں بلی چوہے کا یہ کھیل پرانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں